بجٹ میں خسارہ قطر میں مقیم غیر ملکی ملازمین کی نوکریاں تیل
https://urdu.sahartv.ir/news/echonomic_news-i237934-بجٹ_میں_خسارہ_قطر_میں_مقیم_غیر_ملکی_ملازمین_کی_نوکریاں_تیل
قطر میں مقیم غیر ملکی ملازمین تیل کی قیمتوں میں کمی کے نتیجے میں اپنی ملازمتوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۲۰, ۲۰۱۶ ۱۶:۵۳ Asia/Tehran
  •  بجٹ میں خسارہ قطر میں مقیم غیر ملکی ملازمین کی نوکریاں تیل

قطر میں مقیم غیر ملکی ملازمین تیل کی قیمتوں میں کمی کے نتیجے میں اپنی ملازمتوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔

دہشت گردوں کی مالی معاونت اور امریکی ایما پر تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے نتیجے میں بجٹ خسارے کے سبب قطر میں مقیم غیر ملکی ملازمین کی نوکریاں تیل ہو گئیں، مبصرین کے مطابق ایران کو معاشی لحاظ سے مفلوج کرنے کے لئے امریکی اشاروں پر تیل کی قیمتوں میں کمی کرنے والے عرب ملکوں کو بتدریج اپنے بجٹ میں خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں ہونے والی بھاری کمی نے دیگر عرب ممالک کی طرح قطر کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ ایل این جی برآمد کرنے والے دنیا کے سرفہرست ممالک میں شمار ہونے والے ملک قطر میں اس بحران نے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے لاکھوں غیر ملکیوں کو روزگار سے محروم کر دیا ہے۔

سرکاری ٹھیکوں پر انحصار کرنے والی قطری کمپنیاں پاکستان اور ہندوستان جیسے ایشیائی ممالک کے علاوہ برطانیہ، فرانس اور امریکہ سے آنے والے غیر ملکی ملازمین کو بھی فارغ کر رہی ہیں۔ تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر اور نوکریوں سے محرومی کا نشانہ بننے والوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ انجینئر، وکیل اور کنسلٹنٹ بھی شامل ہیں۔

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق قطر کی سرکاری پٹرولیم کمپنی گزشتہ سال ایک ہزار غیر ملکی ملازمین کو نوکری سے فارغ کر چکی ہے۔ الجزیرہ نیوز چینل بھی رواں سال کے اپریل میں امریکہ میں موجود اپنے دفتر کو بند کرنے پر مجبور ہو گیا اور اس کے پانچ سو ملازمین بے روزگار ہوگئے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قطر کے تقریباً سولہ لاکھ غیر ملکی ملازمین میں سے بھاری اکثریت اپنے ممالک کو واپس لوٹ رہی ہے اور گزشتہ دو سال کے دوران لاکھوں غیر ملکی قطر چھوڑ چکے ہیں۔ غیر ملکی ملازمین کی قطر سے رخصتی کی رفتار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مارچ میں فیس بک پر ایک خصوصی گروپ قائم کیا گیا جس کا مقصد قطر سے رخصت ہونے والے غیر ملکیوں کو اپنا فرنیچر اور گاڑیاں فروخت کرنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔  محض تین ماہ کے دوران اس گروپ کے اراکین کی تعداد پچاس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

قطر کا شمار دنیا کے امیر ترین ممالک میں ہوتا ہے لیکن توانائی کی برآمد سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھاری کمی کے باعث اسے بھی بجٹ خسارے کا سامنا ہے، جس کا نتیجہ غیر ملکی ملازمین کی مشکلات میں مزید اضافےکی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔