چابہار پروجیکٹ دو سال سے کم عرصے میں مکمل ہو جائے گا
ہندوستان نے کہا ہے کہ چابہار پروجیکٹ، دو سال سے کم عرصے میں باضابطہ طور پر اپنا کام شروع کر دے گا۔
ہندوستان کے وزیر مملکت برائے ٹرانسپورٹ" پون رادھاکرشنن" نے جمعے کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی بندرگاہ چابہار آئندہ ڈیڑھ سے دو سال کے اندر اپنا کام شروع کردے گی۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان، چابہار بندرگاہ کے ترقیاتی منصوبے کی فوری تکمیل کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ ہندوستان نے اس پروجیکٹ پر وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رواں سال مئی کے مہینے میں اسلامی جمہوریہ ایران، افغانستان اور ہندوستان کے درمیان چابہار سے موسوم ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ تئیس مئی کو ہونے والے اس معاہدے پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی اور ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے دستخط کئے تھے۔ چابہار بندرگاہ کو پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیاء سے نزدیکی اور عنقریب ریلوے نظام سے متصل ہو جانے کی بناء پر خطے کے ملکوں کے تجارتی سامان کی ترسیل کے لئے ایک اہم ترین بندرگاہ کی حیثت حاصل ہو جائے گی۔ حکومت، اس بندرگاہ کی گنجائش کو سالانہ بیس لاکھ ٹن سے بڑھا کر اسّی لاکھ ٹن تک بڑھانے کا ہدف رکھتی ہے۔ چابہار کا رقبہ تیرہ ہزار ایک سو اکسٹھ مربع کلو میٹر ہے اور یہ صوبہ سیستان و بلوچستان میں ایرانی شہروں "نیک شہر"، "قصرقند" اور "سرباز سٹی" کی سمت سے پاکستان کے ساتھ اور جنوب میں مکران کی سمت سے بحیرہ عمان سے متصل ہے۔ چابہار، صوبہ سیستان و بلوچستان کے مرکز زاہدان کے جنوب میں چھے سو پچیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔