مدینہ منورہ: محنت کشوں کا احتجاج، سعودی پولیس حرکت میں آ گئی
مدینہ منورہ میں محنت کشوں کے احتجاج کو سعودی پولیس نے سختی کے ساتھ کچل دیا ہے.
ارنا کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی پولیس نے مدینہ منورہ میں کام کرنے والے مزدوروں کے اجتماع پر ہلّہ بول دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ "اوجیہ" نامی کمپنی کے سات سو ملازمین کو کہ جو تین ماہ سے زائد عرصے سے تنخواہیں نہ ملنے پر احتجاج کر رہے تھے، پولیس نے سختی کے ساتھ تتر بتر کردیا۔ تاہم اس سلسلے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔
سعودی ذرائع نے پولیس کے تشدد کا نشانہ بننے والے محنت کشوں کی شہریت کی طرف کسی قسم کا کوئی اشارہ نہیں کیا ہے۔ تاہم مدینہ منورہ میں عام طور پر مسلمان ملکوں خاص طور پر پاکستانی ملازمین کی تعداد نسبتا زیادہ بتائی جاتی ہے۔
کمپنی کے بعض ملازمین کا کہنا ہے کہ عرصہ دو ماہ سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے مسائل کے حل اور تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے کمپنی مالکان سے بھی ملاقاتیں کی ہیں تاہم وعدوں کے باوجود ہمارے مسائل کو نہ تو حل کیا جارہا ہے اور نہ ہی ہماری اجرت ہمیں دی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم احتجاج کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ "اوجیہ" کمپنی بھی لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری کی ملکیت ہے۔ مذکورہ کمپنی مالی مشکلات کے سبب اب تک اپنے ہزاروں ملازمین کو تنخواہوں اور واجبات کی ادائیگی کے بغیر ملازمتوں سے نکال چکی ہے۔
ادھر بتایا جاتا ہے کہ جدہ، دمام اور ریاض میں بھی کام کرنے والے صرف ایسے پاکستانی مزدوروں کی تعداد ہی بیس ہزار سے تجاوز کر گئی ہے کہ جنہیں دس ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئی ہیں۔