تیل کی پیدوار میں اضافہ ایران کا حق ہے، روسی صدر پوتن
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ تیل کی پیداوار میں اضافہ کرنا ایران کا حق ہے۔
روسی صدر پوتن نے ایران کے تیل کی پیداوار میں اضافے کو تہران کا حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے دور کی ہی سطح تک ایران کے تیل کی پیداوار کو محدود رکھنے کی باتیں کرنا ناانصافی ہے۔
ولادیمیرپوتن نے بلومبرگ چینل سے اپنی گفتگو میں کہا کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک جانتے ہیں کہ ایران تین سال تک پابندیوں کی وجہ سے اپنا تیل برآمد نہیں کر سکا اور اب پابندیوں کے خاتمے کے بعد یہ اس کا حق ہے کہ تیل کی عالمی منڈیوں میں واپس آئے-
روسی صدر نے کہا کہ اگرچہ اپریل کے مہینے میں اس بات کو لے کر مذاکرات ناکام ہوگئے تھے کہ تیل کی سپلائی روک دینے یا آئل فریز منصوبے میں ایران کو بھی شامل ہونا چاہئے یا نہیں، لیکن تیل پیدا کرنےوالے ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایران کو اس بات کی اجازت ہونی چاہئے کہ وہ پابندیوں کے بعد اپنے تیل کی پیدوار میں اضافہ کرے-
روسی صدر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ وہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں استحکام کے حق میں ہیں، اس امید کا اظہار کیا کہ آئل فریز کے منصوبے میں ایران کے شرکت کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں اختلاف حل ہوجائے گا-
واضح رہے کہ آئل فریز کا منصوبہ اپریل میں اوپیک کے وزرائے پیٹرولیم کے اجلاس میں پیش کیا گیا تھا اور اوپیک کے ارکان اس منصوبے پر دستخط کے قریب بھی پہنچ گئے تھے لیکن سعودی عرب نے یہ بہانہ بناکر کہ ایران کو بھی اس میں شامل کیا جانا چاہئے اس پر دستخط کرنے سے انکا ر کر دیا تھا-
پوتن نے کہا کہ سعودی عرب نے آخری لحمے میں اپنا موقف تبدیل کرلیا اور ہم ابھی بھی اس منصوبے کے حق میں ہیں- یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ ایران اور پانج جمع ایک گروپ کے درمیان ہونےوالے ایٹمی معاہدے اور ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایران کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ تیل کی منڈیوں میں پابندیوں سے پہلے کے دور میں دوبارہ واپس آ جائے- لیکن سعودی عرب نہیں چاہتا کہ ایران تیل کی منڈیوں میں پہلے کی ہی طرح واپس لوٹے اور اس کی پوزیشن بحال ہو-
اس درمیان مڈل ایسٹ آئی نے لکھا ہے کہ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایران اور پانچ جمع کے ایک گروپ کے درمیان ایٹمی معاہدہ ایک ایسا ترپ کا پتہ تھا جس نے کھیل کا رخ بدل دیا اور سعودی عرب کو علاقائی اور عالمی سطح پر الگ تھلگ کر دیا۔