برطانیہ: معاشی صورتحال، تشویشناک ہے۔ ماہرین معاشیات
برطانوی ماہرین معاشیات نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور دسیوں لاکھ شہریوں کے قرضوں میں اضافے کی جانب سے خبردار کیا ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق، ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ یورپی یونین سے الگ ہو مکمل ہوجانے کے بعد، برطانیہ میں مہنگائی اور صارفین کے قرضوں میں اضافہ ہوگا جبکہ تنخواہوں کی حجم میں اصافے کی شرح انتہائی کم قرار دی گئی ہے۔ برطانیہ کے مالیاتی شعبے میں سرگرم عمل منی ایڈوائیس ٹرسٹ کے سربراہ جوانا ایلسن نے بھی مہنگائی کی بڑھتی شرح کی جانب سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس وقت برطانوی گھرانوں کی بڑی تعداد ملک کے مالی بحران کے بعد اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو پائی ہے۔ ماہرین معاشیات کے تخمینوں کے مطابق، سن دو ہزار سترہ کے دوران برطانیہ میں مہنگائی کی شرح ایک فیصد سے بڑھ کر چار فیصد تک پہنچ جائے گی۔ ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں کمی، درآمداتی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا باعث ہوگی۔ معاشی امور کے ماہرین کے اندازوں کے مطابق، برطانیہ میں تنخواہوں کے حجم میں اضافہ معمول سے کم ہوگا کیونکہ معاشی ترقی کی غیریقینی صورتحال کے نتیجے میں برطانوی کمپنیاں اپنے اخراجات کو کم کرنے پر غور کر رہی ہیں۔