کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کا ٹرمپ کو سخت انتباہ
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے امریکہ کینیڈا تجارتی معاہدے (ٹریڈ ڈیل) کو بیچ میں روکنے کے بعد ٹرمپ کو سخت انتباہ دیا ہے۔
سحرنیوز/دنیا: اوٹاوا سے موصولہ رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ٹرمپ کو سخت انتباہ دیتے ہوئے یاد دلایا ہے کہ امریکہ کی ترقی کینیڈا کی بدولت ہی ہو رہی ہے۔ مارک کارنی نے ایک پریس کانفرنس میں امریکہ کو دی جانے والی مدد واپس لینے کی وارننگ بھی دی ہے۔ یہ مدد انرجی کی سپلائی سے مربوط ہے، جس کا پورا حساب انہوں نے میڈیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے یہ دعویٰ کرتے آ رہے ہیں کہ کینیڈا کے ساتھ تجارت میں امریکہ خسارے میں چل رہا ہے لیکن مارک کارنی نے پریس کانفرنس میں اس دعوے کی دھجیاں اڑا دیں۔ انہوں نے سیدھا حساب سمجھاتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا جو تھوڑا بہت سامان کا تجارتی خسارہ نظر آتا ہے، وہ صرف اور صرف اس لیے ہے کہ امریکہ اپنی ضرورت کی سب سے زیادہ انرجی کینیڈا سے خریدتا ہے۔
مارک کارنی نے بھرے مجمع میں اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے امریکہ کو یہ پیغام دیا کہ ‘کینیڈا ہی امریکہ کی گروتھ کا ایندھن ہے’۔ انہوں نے اعداد و شمار میں بتایا کہ امریکہ اپنی ضرورت کی کتنی انرجی کینیڈا سے درآمد کرتا ہے:
- 99 فیصد نیچرل گیس (قدرتی گیس) کینیڈا سے درآمد کرتا ہے۔
- 85 فیصد بجلی (الیکٹریسٹی) کینیڈا سے خریدتا ہے۔
- 60 فیصد خام تیل (کروڈ آئل) کینیڈا سے ہی لیتا ہے۔
ان اعداد و شمار کو سامنے رکھنے کے بعد مارک کارنی نے جس انداز میں طنز کیا، اس نے ٹرمپ کی فضیحت کر دی۔ کارنی نے طنزیہ لہجے میں کہا کہ "مجھے نہیں لگتا کہ امریکہ یہ چاہے گا کہ ہم انہیں یہ انرجی سپلائی کرنا بند کر دیں!" ایک طرح سے انہوں نے امریکہ کو کھلی چیلنج دے دی کہ اگر کینیڈا نے اپنی انرجی سپلائی کا نل بند کر دیا تو امریکہ کی پوری معیشت اور اس کی ترقی ٹھپ پڑ جائے گی۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel