بائیو ٹیکنالوجی کے میدان میں پابندیوں کے مقابلے کا منصوبہ تیار
https://urdu.sahartv.ir/news/echonomic_news-i352189-بائیو_ٹیکنالوجی_کے_میدان_میں_پابندیوں_کے_مقابلے_کا_منصوبہ_تیار
صدر ایران کے معاون خصوصی برائے سائنس و ٹیکنالوجی سورنا ستاری نے کہا ہے کہ بائیو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایران خطے میں سب سے آگے ہے اور ہم نے اس شعبے میں امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری منصوبہ بندی کر لی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۲۱, ۲۰۱۹ ۱۰:۵۸ Asia/Tehran
  • بائیو ٹیکنالوجی کے میدان میں پابندیوں کے مقابلے کا منصوبہ تیار

صدر ایران کے معاون خصوصی برائے سائنس و ٹیکنالوجی سورنا ستاری نے کہا ہے کہ بائیو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایران خطے میں سب سے آگے ہے اور ہم نے اس شعبے میں امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری منصوبہ بندی کر لی ہے۔

دارالحکومت تہران کے جنوب میں واقع صوبے البرز میں نالج بیسڈ دواساز کمپنی کے معائنے کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر ایران کے معاون خصوصی برائے سائنس و ٹیکنالوجی سورنا ستاری نے کہا کہ ہم پوری منصوبہ بندی کے ساتھ اس شعبے میں قدم آگے بڑھا رہے ہیں۔
 انہوں نے کہا کہ انسانوں اور جانوروں کے لیے دواؤں اور ویکسین کی تیاری کے میدان میں نوجوان سائنسدانوں کی مشارکت کو فروغ دینے کے لیے لازمی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔
صدر ایران کے معاون خصوصی برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے امید ظاہر کی کہ ایرانی نوجوان اپنی علمی صلاحیتوں کی بنیاد پر دواسازی کے میدان میں ملک کو خودکفیل بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور ہمیں کوئی بھی دوا یا ویکسین باہر سے منگوانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
سورنا ستاری نے آٹھ نئی دواؤں کی رونمائی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نوجوان ایرانی سائنسدانوں کی کوششوں کی قدر دانی بھی کی۔
قابل ذکر ہے کہ اتوار کے روز کرج سٹی میں آٹھ نئی دواؤں کی رونمائی کی گئی جن میں مائیکروپلٹ اومیپرازول، ٹیمسولوسن ہائیڈروکلورائیڈ، نیلٹروکسن بیس، سیٹاگلپٹن فاسفیٹ اور پائیوگلیٹازون شامل ہیں۔
یہ تمام دوائیں صوبہ البرز میں قائم دواسازی کا خام مال تیار کرنے والی سب سے بڑی کمپنی تماد فارما سیوٹیکل کمپنی نے تیار کی ہیں۔
 اس کمپنی نے سن دو ہزار اٹھارہ کے دوران دنیا کے پانچ براعظموں کے تینتالیس ممالک کو آٹھ ملین ڈالر کی منصوعات برآمد بھی کی تھیں۔
گزشتہ ماہ بھی صوبہ البرز میں مغربی ایشیا کے سب سے بڑے دواسازی کے مرکز کا افتتاح اور نو قسم کی نئی دواؤں کی رونمائی کی گئی تھی۔
 دواسازی اور میڈیکل کے شعبے میں ایران نے یہ ترقی ایسے وقت میں کی ہے جب امریکہ نے مئی دو ہزار اٹھارہ کو ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران کے خلاف تمام پابندیاں پھر سے عائد کر دی ہیں اور ان میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔
عالمی عدالت انصاف نے تین اکتوبر دو ہزار اٹھارہ کو اپنے ایک عبوری فیصلے میں ایران کے خلاف دواؤں، غذائی اشیا اور مسافر طیاروں کے پرزہ جات پر عائد کی جانے والے تمام امریکی پابندیاں اٹھانے کا حکم دیا تھا۔