کویت پرعراقی جارحیت
https://urdu.sahartv.ir/news/event-i332463-کویت_پرعراقی_جارحیت
یہ ایک ایسی جنگ تھی جس کی وجہ سے دیگر بین الاقومی مسائل تحت شعاع چلے گئے اور پوری دنیا میں صرف عراق کویت جنگ کی باتیں کی جانے لگیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۰۲, ۲۰۱۸ ۰۸:۰۷ Asia/Tehran
  • کویت پرعراقی جارحیت

یہ ایک ایسی جنگ تھی جس کی وجہ سے دیگر بین الاقومی مسائل تحت شعاع چلے گئے اور پوری دنیا میں صرف عراق کویت جنگ کی باتیں کی جانے لگیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران پر عراقی سابق ڈکٹیٹر صدام حسین کی فوجی جارحیت کے دو سال بعد دو اگست ۱۹۹۰ کو عراق نے ہمسایہ ملک کویت پر چڑھائی کردی اور عراقی فوجوں کی کویت کی سرزمین میں موجودگی نے خطے اور خلیج فارس میں ایک عظیم بحران کھڑا کردیا۔

 

یہ ایک ایسی جنگ تھی جس کی وجہ سے دیگر بین الاقومی مسائل تحت شعاع چلے گئے اور پوری دنیا میں صرف عراق کویت جنگ کی باتیں کی جانے لگیں۔

 

دنیا بھر کے ممالک نے اس جارحیت پر عراقی سابق ڈکٹیٹر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور سلامتی کونسل نے کئی قراردادیں پاس کر کے عراق کو فوری طور پر کویت سے باہر نکلنے کا حکم جاری کیا۔

 

بالآخر پندرہ جنوری ۱۹۹۱ تک کی مہلت دی گئی تاکہ عراق اپنی فوجیں بغیر کسی شرط کے کویت سے باہر نکالے اور اگر وہ اس فیصلے پر عمل نہیں کرتا تو عراق کو طاقت کے بل بوتے پر کویت سے نکالنے کی تجویز پیش کی گئی۔

 

سن ۱۹۹۱ کے آغاز میں ہی مہلت ختم ہونے سے پہلے ہی پانچ لاکھ امریکی فوجیں اور اسکے اتحادی ممالک کے دولاکھ فوجی خلیج فارس پہنچ گئے۔

 

اس موقع پر تقریبا ۱۲۰۰ جنگی لڑاکا طیارے اور چار ہزار ٹینکوں نے حصہ لیا۔ اسکے علاوہ خلیج فارس اور اسکے اطراف میں سو جنگی کشتیاں موجود تھیں۔

 

اتنا جنگی ساز و سامان دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا تھا۔ مہلت ختم ہونے اور صدام حسین کی جانب سے سلامتی کونسل کی بات ماننے سے انکار کے بعد اڑتالیس گھنٹوں کے اندر ہی عراق کے خلاف بہت وسیع پیمانے پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

 

ایسی تباہی و بربادی پھیلی کہ جس کا کوئی سابقہ نہیں تھا لیکن چونکہ انہیں صدام کی شکل میں اپنی کٹھ پتلی حکومت کو باقی رکھنا تھا اور سقوط بغداد جب کچھ ہی گھنٹوں کے فاصلے پر تھا کہ اتحادی فوجیوں نے اپنے آپریشن کو ختم کردیا اور یوں امریکہ نے اپنی چالبازی سے مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر اپنی موجودگی کو یقینی بنا کر عالم اسلام میں سازشوں کے عمل کو مزید تیز کردیا۔