ہندوستان: جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں تنازعہ کی سنگین صورت حال
دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں تنازعہ سنگین صورت حال اختیار کرتا جا رہا ہے۔
طلباء یونین کے صدر کی گرفتاری کے بعد یونیورسٹی کیمپس میں طلباء یونین کے کارکنوں اور بی جے پی کی حامی طلباء تنظیم اے بی وی پی کے ارکان کے درمیان تصادم کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دوسری جانب مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جے این یو میں جو بھی ہوا وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے جے این یو کے معاملے کو کالعدم تنظیم لشکرطیبہ کے سرغنہ حافظ سعید سے جوڑتے ہوئے کہا کہ جے این یو میں جو بھی ہوا اسے حافظ سعید کی حمایت حاصل ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ جو بھی ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی لیکن کسی بھی بے قصور کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ جب حب الوطنی کی بات ہو تو سب کو ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔
دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعتوں نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جے این یو معاملے میں حافظ سعید کا ہاتھ ہے تو وزیر داخلہ اس کا ثبوت قوم کے سامنے پیش کریں۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما سیتارام یچوری نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ وزیر داخلہ نے کن ثبوتوں کی بنیاد پر جے این یو کا معاملہ حافظ سعید سے جوڑا ہے ۔ انہوں نے موجودہ تنازعے میں بی جے پی اور حکومت کے روّیے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قاتلوں سے حب الوطنی کا سرٹیفکٹ نہیں چاہئے۔
دوسری جانب ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما اور راجیہ سبھا کے ممبر ڈی راجا نے کہا ہے کہ ان کی بیٹی کو، جو جے این یو کی طلبا یونین کی سرگرم رکن ہے، جان سے مار دینے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ڈی راجا کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایک شخص کا آسٹریلیا سے فون آیا جو ہندی میں بات کر رہا تھا۔ ڈی راجا نے کہا کہ وہ دھمکی دے رہا تھا کہ وہ بی جے پی کی حامی طلباء تنظیم اے بی وی پی اور خود بی جے پی کی دشمنی کیوں مول رہے ہیں۔
ڈی راجا کا کہنا تھا کہ فون کرنے والے شخص نے دھمکی دی کہ ان کی بیٹی کو جان سے مار دیا جائے گا۔
اس سے پہلے کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے بھی جے این یو کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ طلباء کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ملک کے غدار ہیں۔
واضح رہے کہ ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملے کے جرم میں پھانسی پر لٹکائے گئے افضل گرو کی برسی کے موقع پر جے این یو میں ایک پروگرام ہوا تھا جس کے بارے میں حکومت اور بی جے پی کے کچھ ممبران پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ وہاں ملک کے خلاف نعرے لگائے گئے تھے۔
اس پروگرام کی شکایت کے بعد جے این یو کی طلبا یونین کے صدر کنہیا کمار کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے جس کے بعد سے وہاں کی صورت حال انتہائی کشیدہ ہے۔ ہفتے کو حزب اختلاف کی جماعتوں کے اہم رہنماؤں نے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کرکے کنہیا کمار کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔