ہندوستان امریکا فوجی معاہدے کی اپوزیشن کی جانب سے شدید مخالفت
امریکا کےساتھ فوجی اڈوں کے استعمال کے لئے معاہدہ کرنےکے حکومت کے فیصلے پر ہندوستان کی اپوزیشن جماعتوں نے سخت احتجاج کرتے ہوئے اسے ملک کے لئے تباہ کن بتایا ہے
حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس پارٹی نے، ہندوستان اور امریکا کے درمیان مجوزہ فوجی معاہدے پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس سے روس اور چین کےساتھ ہندوستان کا اسٹریٹیجک توازن بگڑجائےگا - کانگریس نےاس معاہدے کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے کہا ہےکہ مودی حکومت کو اس معاہدے کے لئےتیار نہیں ہونا چاہئے تھا-
کانگریس کے ترجمان آنندشرمانےجمعرات کو نئی دہلی میں کانگریس کے آفس میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکا کے ساتھ یہ معاہدہ کسی دوسرے دوست ملک کی قیمت پر نہیں کیا جانا چاہئے اور مودی حکومت کو کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں ، ماضی میں پیش کی گئی تجاویز کو مستردکرنے کی حکمت عملی کا احترام کرنا چاہئے -
کانگریس کے ترجمان آنند شرما نے کہاکہ ایسے معاہدوں سے ہماری اسٹریٹیجک تیاریاں اور حکمت عملی متاثر ہوسکتی ہے - اس سے پہلے کانگریس کے ایک اور سینیئر لیڈر اور سابق وزیردفاع اے کے اٹنونی نے اس معاہدے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ معاہدہ ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا -اپنے دور اقتدار میں اس معاہدے کی کوششوں کو ناکام بنانے والے ہندوستان کے سابق وزیردفاع اے کے انٹونی نے انتہائی سخت الفاظ میں مودی حکومت کے اس مجوزہ اقدام کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ملک کی آزاد خارجہ پالیسی اور حکمت عملی پر مبنی خود مختاری کے اختتام کا آغاز ہے -
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے اس فیصلےسے ہندوستان آہستہ آہستہ اسی پالیسی کی طرف بڑھ رہا ہے جس کی اس نے ہمیشہ مخالفت کی ہے- ہندوستان کی بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے -
واضح رہے کہ امریکی وزیرجنگ ایشٹن کارٹر کے حالیہ دورہ ہندوستان میں نئی دہلی اور واشنگٹن نے ایک ایسے معاہدے کی تیاری کا اعلان کیا ہے جس کے تحت امریکی فوجی ہندوستان کے فوجی اڈوں پرتعینات ہوسکیں گے اور ہندوستان کے فوجی بھی امریکی فوجی اڈوں کو استعمال کرسکیں گے -