کوہ نور ہیرے کے بارے میں ہندوستانی موقف سامنے آگیا
https://urdu.sahartv.ir/news/india-i221902-کوہ_نور_ہیرے_کے_بارے_میں_ہندوستانی_موقف_سامنے_آگیا
دنیا کے انمول ترین ہیرے کوہ نور کے بارے میں حکومت ہندوستان کا موقف سامنے آگیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۱۸, ۲۰۱۶ ۱۷:۰۱ Asia/Tehran
  • کوہ نور ہیرے کے بارے میں ہندوستانی موقف سامنے آگیا

دنیا کے انمول ترین ہیرے کوہ نور کے بارے میں حکومت ہندوستان کا موقف سامنے آگیا ہے۔

حکومت ہندوستان نے پیر کے روز برطانیہ سے کوہ نور کی واپسی سے متعلق عدالت میں سماعت کے دوران کہا ہے کہ انمول ہیرے کو برطانیہ نے چوری نہیں کیا بلکہ اسے دیا گیا تھا۔ ایک سو آٹھ قیراط کا کوہ نور ہیرا برطانوی نوآبادیاتی دور میں اس ملک کے ہاتھ لگا تھا اور اسے ملکہ ایلزبتھ کے تاج میں جڑا گیا ہے۔اس تاج کو دوہزار دو میں عوامی نمائش کے لیے لندن ٹاور میں رکھا گیا تھا۔

کوہ نور ہیرے کی واپسی سے متعلق عدالتی سماعت کے دوران حکومت ہندوستان کے قانونی مشیر رنجیت کمار نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ کوہ نور کو انیسویں صدی میں سکھ سلطنت کے بادشاہ رنجیت سنگھ نے برطانیہ کو دیا تھا۔ قدیم سکھ سلطنت کا علاقہ ان دنوں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہے۔

گزشتہ سال ایک پاکستانی وکیل نے بھی لاھور میں ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرائی تھی جس میں کوہ نور ہیرا پاکستان واپس لانے کی اپیل کی گئی تھی۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھاکہ کوہ نور ہیرا پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ملکیت ہے جسے برطانیہ نے انیسویں صدی میں طاقت کے زور پر چھین لیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ کوہ نور ہیرا سولہ سو چھپن میں آندھرا پردیش کے صدر مقام حیدرآباد کے قریب واقع قدیم قلعے سے ملا تھا۔ ہندوستان کی فتح کے بعد نادر شاہ درانی کوہ نور اور دیگر جواہرات اپنے ساتھ ایران لے آیا اور اس کی موت کے بعد یہ ہیرا پہلے افغانستان اور پھر ہندوستان واپس پہنچ گیا۔

کوہ نور ہیرے کی جوڑی جو دریائے نور کے نام سے مشہور ہے ایران کے مرکزی بینک کے قومی جواہرات کے میوزیم میں محفوظ ہے۔

قابل ذکر ہے کہ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے دو ہزار دس میں کوہ نور ہیرے کی واپسی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر برٹش میوزیم میں موجود تمام اشیا کی ملکیت کے بارے میں دائر ہونے والے دعوؤں کی پیروی کی جائے تو زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ یہ میوزیم قیمتی اشیا سے خالی ہو جائے ۔