ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی کشیدہ صورت حال
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی کشیدہ صورت حال میں گذشتہ چھیالیس روز میں بظاہر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہندوستان سے ہمارے نمائندے نے خبر دی ہے کہ منگل کو بھی کشمیر کے شمالی اور جنوبی شہروں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کئے- پولیس نے بعض مقامات پر ہوائی فائرنگ کی اور پیلٹ گنوں کا استعمال کیا۔ منگل کو بھی مظاہروں کے دوران بہت سے افراد زخمی ہوئے- حکام کا کہنا ہے کہ وادی میں حالات تیزی کے ساتھ بہتر ہو رہے ہیں- دوسری جانب جموں و کشمیر کے اپوزیشن رہنماؤں کی ہندوستانی وزیراعظم نریندرمودی سے ملاقات کے بعد وادی میں حالات کو معمول پر لانے کی کوششوں کے تحت مرکزی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ، بدھ کو کشمیر پہنچ رہے ہیں- ہندوستانی وزیرداخلہ کشمیر میں دو روز تک قیام کریں گے- وادی میں جب سے حالات خراب ہوئے ہیں ان کا یہ دوسرا دورہ ہو گا- اس سے پہلے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے سیاسی رہنماؤں سے ملاقات میں ہندوستانی وزیراعظم نے یقین دلایا تھا کہ وہ کشمیر کے موجودہ بحران کوسیاسی طریقے سے حل کرنے کی پوری کوشش کریں گے- انہوں نے کشمیرمیں ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا- اس درمیان نئی دہلی سے سری نگر پہنچنے کے بعد ریاست کے سابق وزیراعلی اور نیشنل کانفرنس کے رہنما عمرعبداللہ نے کہا کہ ان کے ہمراہ وفد سے ملاقات میں ہندوستانی وزیراعظم نے جو یقین دہانی کرائی ہے اس سے وہ کافی پرامید ہیں- ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر میں بہت جلد سیاسی عمل شروع ہو جائے گا- عمرعبداللہ کا کہنا تھا کہ ہندوستانی وزیراعظم بھی پرامن طریقے سے مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔