ہندوستانی وزیرداخلہ کا دو روزہ دورہ کشمیر
ہندوستان کے وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے اپنے دو روزہ دورہ کشمیر کے اختتام پر کہا ہے کہ وہ جمہوریت، انسانیت اور کشمیریت کے دائرے میں تمام لوگوں سے مل کر کشمیر کا حل نکالنا چاہتے ہیں۔
ہندوستانی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے سری نگر میں ہندوستان کے زیرانتظام ریاست جموں و کشمیر کی وزیراعلی محبوبہ مفتی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ ہندوستان کا مستقبل، کشمیر کے مستقبل کے ساتھ دیکھنا چـاہتے ہیں- انہوں نے سبھی کشمیری عوام سے کہا کہ وہ ریاست میں امن کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں- راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ ان کے دو روزہ دورے میں تقریبا تین سو لوگوں نے ان سے ملاقات کی اور اس کے علاوہ انہوں نے کشمیر کی سبھی اہم جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی- انہوں نے کہا کہ وہ جمہوریت، انسانیت اور کشمیریت کے دائرے میں رہتے ہوئے سبھی لوگوں سے ملنے کے لئے تیار ہیں- البتہ بار بار پوچھے گئے اس سوال کا انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا کہ وہ حریت پسند رہنماؤں سے بھی ملیں گے یا نہیں- انہوں نے کہا کہ وہ پیلٹ گن کے مضراثرات سے واقف ہو چکے ہیں اور بہت جلد اس کا متبادل تلاش کر لیا جائے گا- اس موقع پر ریاست کی وزیراعلی محبوبہ مفتی نے کہا کہ ریاست کے پنچانوے فیصد لوگ مسائل کا حل پرامن طریقے سے چاہتے ہیں اور صرف پانچ فیصد لوگوں نے بقول ان کے انہیں یرغمال بنا رکھا ہے- محبوبہ مفتی نے کہا کہ جو بھی ریاست میں امن و قانون میں خلل ڈالنے کا مرتکب پایا جائے گا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی- ان کا کہنا تھا کہ امن کے دشمن کمسن بچوں کو ڈھال بنا کرامن وامان کی صورت حال خراب کر رہے ہیں- محبوبہ مفتی نے اس بات پر بار بار زور دیا کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے- اس درمیان جمعرات کو بھی وادی کے مختلف علاقوں میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا جبکہ کرفیو اور ہڑتالوں کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح مفلوج رہے-