ہندوستانی فوجی مرکز پر حملہ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے اوڑی میں اتوار کو ہندوستانی فوجی مرکز پر مسلح افراد کے حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں-
نئی دہلی میں ہندوستانی وزیراعظم کی صدارت میں ایک اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں وزرائے داخلہ، دفاع، خزانہ کے ساتھ ساتھ ہندوستانی بری فوج کے سربراہ دلبیرسنگھ اور قومی سلامتی کے امور کے مشیر اجیت ڈوبھال نے شرکت کی - اجلاس کے دوران حملے میں پاکستان کو ملوث قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف بین الاقوامی سطح پر کارروائی اور اس کو الگ تھلگ کرنے کی بات کی گئی - اجلاس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کے خلاف کارروائی کی مانگ کی بھی تجویز پر غور کیا گیا - دوسری جانب نومبر میں اسلام آباد میں ہونےوالے سارک سربراہی اجلاس میں ہندوستانی وزیراعظم کی شرکت پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے - پیر کو اوڑی میں ہندوستانی فوجی مرکز پر ہونےوالے حملے میں بیس ہندوستانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے - ادھر پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج ملک کو درپیش بالواسطہ اور بلاواسطہ تمام دھمکیوں کا جواب دینے کے لئے تیارہے - ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی طرف سے اوڑی حملے کے بعد پاکستان کے خلاف بیانات کا نوٹس لیا جارہا ہے- پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ راولپنڈی میں آرمی چیف کی زیر صدارت کورکمانڈر کانفرنس ہوئی جس میں جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ہم خطے میں ہونےوالے واقعات سے باخبر ہیں - پاکستان کے دفتر خارجہ خارجہ کے ترجمان نے بھی اوڑی حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کےتعلق سے ہندوستان کے الزام کو مسترکردیا -