وادی کشمیر کے متعدد علاقوں میں دوبارہ کرفیو
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ہفتے کو حالات مزید کشیدہ ہوگئے اور وادی کے بیشتر علاقوں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں-
جمعے کو بارہ مولا کے علاقے ناندیہال میں مبینہ طور پر ہندوستانی سیکورٹی فورس کے اہلکاروں کی فائرنگ سے وسیم احمد نامی ایک نوجوان کی موت ہوجانے کے بعد علاقے میں لوگوں نے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا جو ہفتے کو بھی جاری رہا ہے - حکام نے شمالی کشمیر کے متعدد علاقوں منجملہ ہندواڑہ میں کرفیو نافذ کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کئے -
جنوبی کشمیر کے بھی متعدد علاقوں میں سخت ترین بندشوں کے باوجود لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کئے اور سیکورٹی فورس اور پولیس اہلکاروں سے ان کی جھڑپیں بھی ہوئیں - بتایا جاتاہے کہ ان جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں- سری نگر کے بھی کم سے کم تین تھانہ علاقوں میں پولیس اور سیکورٹی فورس نے سخت ترین بندشیں عائد کردی ہیں -
دوسری جانب علیحدگی پسند رہنماؤں کی اپیل پر ہفتے کو بھی وادی کے طول و عرض میں عام ہڑتال رہی جس کے باعث معمولات زندگی بری طرح مفلوج رہے - علیحدگی پسند جماعتوں نے وادی میں مظاہروں اور ہڑتال کی کال کی مدت آئندہ انتیس ستمبر تک بڑھادی ہے -
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں گذشتہ نوجولائی سے شروع ہوئے پرتشدد مظاہروں میں اب تک نوے سے زائد افراد جاں بحق اور تیرہ ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں - مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ ریاستی اورمرکزی حکومتوں کی کوششوں کے باوجود وادی میں حالات جوں کے توں کشیدہ ہیں جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ صورت حال کافی حدتک بہتر ہوئی ہے -