ہندوستان، کشمیر میں حالات میں بہتری کے دعوے کے باوجود مظاہرے جاری
https://urdu.sahartv.ir/news/india-i251686-ہندوستان_کشمیر_میں_حالات_میں_بہتری_کے_دعوے_کے_باوجود_مظاہرے_جاری
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں اٹھاسی ویں روز بھی بندشوں اور ہڑتالوں کے باعث معمولات زندگی مفلوج رہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۰۴, ۲۰۱۶ ۱۴:۳۹ Asia/Tehran
  • ہندوستان، کشمیر میں حالات میں بہتری کے دعوے کے باوجود مظاہرے جاری

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں اٹھاسی ویں روز بھی بندشوں اور ہڑتالوں کے باعث معمولات زندگی مفلوج رہے۔

سری نگر سے ہمارے نمائندے نے خبردی ہے کہ منگل کو علیحدگی پسند جماعتوں نے احتجاجی مارچ کی کال دی جس کو انتظامیہ نے ناکام بنا دیا اس دوران مظاہرین اور سیکورٹی فورس کے اہلکاروں کے درمیان تصادم ہوا جس میں بہت سے افراد زخمی ہو گئے-

دریں اثنا اطلاعات ہیں کہ سیکورٹی فورس کے اہلکاروں نے سری نگر میں خواتین کی تنظیم دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کوگرفتار کرلیا ہے- بتایا جاتا ہے کہ وادی میں ہڑتال اور بندشوں کی وجہ سے تجارتی مراکز، اسکول اورکالج بند رہے اور سرکادی دفاتر میں بھی حاضری کم رہی- البتہ سری نگر کے بالائی علاقوں میں سڑکوں پر نجی گاڑیاں دوڑتی ہوئی نظر آئیں-

اس دوران فٹ پاتھ پر سامان بیچنےوالوں نے بھی  اپنا کاروبار شروع کر دیا ہے جس سے سری نگر میں چہل پہل دکھائی دے رہی ہے تاہم  اطلاعات ہیں کہ شمالی کشمیر کے علاقے سوپور میں لوگوں نے نماز ظہرین سڑکوں پر ادا کی اور اس کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا- سیکورٹی فورس  نے مظاہرین کو منتشرکرنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا جس میں متعدد افراد زخمی ہوگئے-

ادھر شمالی کشمیر کے ہی کپواڑہ علاقے میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک نوجوان کو سری نگر کے اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے- حکام کا کہنا ہے کہ حالات اب مکمل طور پر ان کے کنٹروں میں ہیں اور کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے- ہمارے نمائندے نے بھی خبر دی ہے کہ گذشتہ کئی روز سے مظاہروں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے اس لئے مظاہروں کی شدت میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے-

دوسری جانب لائن آف کنٹرول کے  دونوں جانب سے ہندوستان اور پاکستان نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا ہے- ہندوستانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوجیوں کی جانب سے مارٹر شیلنگ کے نتیجے میں جموں کے پونچھ سیکٹر میں کم سے کم سولہ افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ لوگوں کے گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے- ہندوستانی فوج کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر وقفے وققے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے-

ادھر پاکستان نے کہا ہے کہ ہندوستانی فوجیوں نے بھمبر کے سماہنی سیکٹر میں ایک بار پھر بلااشتعال فائرنگ کی ہے- پاکستانی فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہندوستانی فوجیوں نے لآئن آف کنٹرول پر فائربندی کی یہ خلاف ورزی منگل کی صبح کی جبکہ پیر اور منگل کی درمیانی رات بھی ہندوستانی فوجیوں نے بلااشتعال فائرنگ کی تھی- پاکستانی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے خبردی ہے کہ ہندوستانی فوجیوں کی فائرنگ کا پاکستانی فوجیوں نے بھی بھرپور جواب دیا ہے-

دریں اثنا وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کرگل میں سیاسی مذہبی، اور سماجی وفود سے ملاقات کی۔ راج ناتھ سنگھ نے کرگل میں فوج کے افسران اور سینئیر اہلکاروں سے بھی ملاقات کی ہے- کرگل کے سیاسی، مذہبی اور سماجی عمائدین نے وزیر داخلہ سے ملاقات میں کشمیرمیں جاری بحرانی صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا اور حالات کو جلد سے جلد بہتر بنانے پر زوردیا-

ہندوستانی وزیر داخلہ کا دورہ کرگل ایک ایسے وقت انجام پایا ہے جب کرگل کے باشندے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ سے سخت خوفزدہ ہیں- کرگل کے باشندوں نے ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ ہوتی ہے تو ان کے لئے بہت ہی مشکلات پیدا ہوں گی اور انہیں اپنے گھربار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف جانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔