ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پرتشدد مظاہرے اور ہڑتال
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیرمیں بدھ کو بھی سخت بندشوں، ہڑتالوں اور پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔
سری نگر سے ہمارے نمائندے نے خبر دی ہے کہ گاندر بل قصبے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں- گاندر بل میں حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب خواتین کی کال پر ایک مارچ نکالنے کی کوشش کی گئی- پولیس نے مارچ کو ناکام بنانے کے لئے طاقت کا استمعال کیا جس پر مقامی لوگوں میں شدید اشتعال پیدا ہوا اور انہوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا، یوں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی۔
شمالی کشمیر میں بھی لوگوں نے بدھ کو احتجاجی مظاہرے کرنے کی کوشش لیکن پولیس نے ان مظاہروں کو ناکام بنا دیا جس کے دوران متعدد افراد زخمی ہو گئے - جنوبی کشمیر میں بھی کئی مقامات پر لوگوں نے مطاہرے کرنے کی کوشش کی لیکن سیکورٹی فورس نے انہیں ناکام بنا دیا-
علیحدگی پسند جماعتوں کی جانب سے بلائی گئی ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی بدھ کو بھی مفلوج رہے- اسکول، کالج اور بڑے تجارتی مراکز بند رہے البتہ سڑکوں پر ٹھیلے اور فٹ پاتھ پر دیگراشیا بیچنے والوں کی خاصی تعداد دیکھی گئی جبکہ سری نگر کے متعدد علاقوں میں شاہراہوں اور سڑکوں پر نجی گاڑیاں بھی دوڑتی ہوئی دیکھی گئیں-
سری نگر میں حکام کا کہنا ہے کہ وادی میں حالات پوری طرح ان کے کنٹرول میں ہیں اور کہیں سے کسی ناخوشگوار کی اطلاع نہیں ملی ہے البتہ دفعہ ایک سو چوالیس نافذ رہے گی- ہمارے نمائندے کا کہنا ہےکہ نوے روز کا عرصہ گذرجانے کے بعد بھی کشمیر میں صورتحال معمول پر نہیں لوٹ سکی ہے جو حکام کے لئے پریشانی کا باعث ہے-
ادھر سری نگر کے پائین شہر کے علاقوں میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور حکام نے پائین شہر کے علاقوں میں بڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکار تعینات کر دئے ہیں- دریں اثنا لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب صورتحال کشیدہ ہے اور ہندوستان و پاکستان دونوں نے ایک دوسرے پر فائربندی کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا ہے- ہندوستانی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ جموں میں لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فوجیوں نے گولہ باری کی ہے جبکہ پاکستان نے اسی طرح کا الزام ہندوستان پر عائد کیا ہے۔