لوک سبھا کی کارروائی دو بجے تک کے لیے ملتوی
نوٹوں کی منسوخی پر ووٹنگ کے ساتھ بحث کرانے کے مطالبے کو لے کر آج تیرھویں دن بھی لوک سبھا کی کاروائی دوبجے تک ملتوی کرنا پڑی-
نوٹوں کی منسوخی پر ووٹنگ کے ساتھ بحث کرانے کے مطالبے کے سلسلے میں اپوزیشن کے بھاری ہنگامے کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی میں وقفہ سوال میں رکاوٹ پیدا ہونے کے بعد وقفہ صفر میں بھی رکاوٹ پیدا ہوئی اور اسپیکر سمترا مہاجن کو ایوان کی کارروائی دو بجے تک کے لئے ملتوی کرنی پڑی۔
ایوان کی کارروائی دوبارہ جیسے ہی شروع ہوئی تو اسپیکر نے ضابطہ ایک سو چوراسی کے تحت بحث کرانے کے نوٹس کو مسترد کرنے کے بعد ضروری کام کاج نپٹائے۔
وقفہ صفر شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان، وزیر اعظم کو ایوان میں آنے اور ووٹنگ کے ساتھ بحث کا آغاز کرنے کے مطالبے کے سلسلے میں نعرے لگاتے ہوئے ایوان کے وسط میں آ گئے۔
ادھر کانگریس نے نوٹوں کی منسوخی کے سلسلے میں پارلیمنٹ میں جاری تعطل کے درمیان اپنے تمام ممبران پارلیمنٹ کو ایوان میں موجود رہنے کے لئے وہپ جاری کیا ہے۔
کانگریس پارٹی کے ذرائع نے آج بتایا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے لئے وہپ پورے ہفتے کے لئے ہے۔
کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں لوک سبھا میں نوٹ کی منسوخی کے معاملے پر ضابطہ چھپن کے تحت کام روکو تجویز کے ذریعے بحث کرانے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں جس میں ووٹنگ کی تجویز ہے لیکن حکومت اس کے لئے تیار نہیں تھی۔
دوسری جانب بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن ایڈوانی نے لوک سبھا کی کاروائی گذشتہ چودہ دنوں سے ٹھپ پڑے رہنے کے باعث حکومت اور اپوزیشن دونوں پر نکتہ چینی کی ہے- موصولہ خبروں کے مطابق کولکتہ کی اسپیشل ٹاسک فورس ( ایس ٹی ایف ) نے منگل کو رات گئے بی جے پی کے لیڈر منیش شرما کو تینتیس لاکھ کے نئے نوٹوں کے ساتھ گرفتار کیا ہے- منیش شرما کو دوہزار کے نئے نوٹوں کے ساتھ رانی گنج کوئلا بیلٹ سے گرفتار کیا گیا ہے- واضح رہے کہ منیش شرما کی پہچان کوئلا مافیا کے طورپر ہوتی ہے اور اس کے ساتھ چھ ٹرک مالکوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے- منیش کے پاس سے ہتھیار بھی برآمد کئے گئے ہیں-