ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی علاقوں میں پرتشدد مظاہرے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی علاقے میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد نمازجمعہ کے فورا بعد ایک بار پھر تشدد بھڑک اٹھا جس میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔
سری نگر سے ہمارے نمائندے نے خبر دی ہے کہ جنوبی کشمیر کے کلگام، شوپیاں، اروانی اور اننتناگ کے متعدد علاقوں میں جمعہ کی نماز کے بعد پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں- ارونی میں گذشتہ دو روز سے پولیس اور سیکورٹی فورس کا انکاؤنٹر جاری تھا جس میں پولیس کے بقول مبینہ طور پر تین شدت پسند مارے گئے ہیں حبکہ ایک عام شہری بھی اسی علاقے میں مارا گیا جس کی وجہ سے لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے-
جمعہ کے بعد ہونےوالے مظاہروں کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ کم سے کم تیس افراد زخمی ہو گئے تاہم کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے-
ادھر سری نگر کے پائین شہر علاقےمیں بھی نماز جمعہ کے بعد شدید احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں- مظاہرے کے دوران پولیس اور مظاہرین کے مابین تصادم ہوا - حکام نے بزرگ علیحدگی پسند کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی کو ان کے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی- البتہ دیگر کشمیری رہنماؤں کو نماز جمعہ میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی-
سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میر واعظ عمرفاروق نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے پاس مسئلہ کشمیر کے حل کے تعلق سے بات چیت کے علاوہ اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔