ہندوستان: نوٹ منسوخی کے معاملے میں راہل گاندی کا مودی پر حملہ
ہندوستان میں نوٹ منسوخی کے معاملے میں وزیراعظم نریندر مودی پر اپنے حملے جاری رکھتے ہوئے کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے منگل کو کہا کہ مسٹر مودی نے ہندوستان کے لوگوں کو کیش لیس (بے پیسہ) بنا دیا ہے جبکہ بڑی بڑی کمپنیاں بینکوں میں نقد جمع کر رہی ہیں۔
اترپردیش میں دادری کی منڈی میں بیوپاریوں سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے منگل کو کہا کہ دولت مند لوگ ’پچھلے راستے‘ سے پیسہ نکال رہے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کہتے ہیں کہ نوٹ بندی کا مقصد معیشت کو نقدی سے پاک بنانا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ غریب آدمی، کیش لیس ’بے پیسہ‘ ہو گیا ہے۔
دوسری جانب سابق مرکزی وزیر خزانہ اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے بھی نوٹ بندی کو اس سال کا سب سے بڑا گھوٹالہ بتایا اور اس کی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ غریبوں پر براہ راست حملہ ہے۔ پی چدمبرم نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مودی حکومت نے کالے دھن پر قدغن کے لئے نوٹ بندی کا فیصلہ کیا ہے لیکن معاشی چلن میں موجود پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے مکمل نوٹ، جو بینکنگ نظام میں جمع ہو جائیں گے، تو ان نوٹوں کے اعلان کا کیا ہو گا؟۔
ادھر نوٹ بندی کے فیصلے کے بعد بینکنگ نظام میں غیر قانونی طریقوں سے نوٹوں کو تبدیل کرنے سے متعلق میڈیا میں آنے والی رپورٹوں کے بعد ریزرو بینک نے سخت قدم اٹھایا ہے اور تمام بینکوں کو ہدایات دی ہیں کہ وہ نئے نوٹوں کی آمد پر پوری نگرانی رکھیں۔ آٹھ نومبر کو پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹ بند کرنے کے حکومت کے فیصلے کے بعد منی لانڈرنگ اور نوٹوں کو غیر قانونی طریقے سے تبدیل کرنے کے کئی معاملے سامنے آئے ہیں اور ان میں بہت سے بینک ملازمین کو پکڑا گیا ہے۔ بنگلور میں ریزرو بینک کے ایک ملازم کو بھی اس الزام میں سی بی آئی نے گرفتار کیا ہے۔