ہندوستان کا نیا مالی سال کا بجٹ پارلیمنٹ میں پیش
ہندوستان کے مرکزی وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے سن دوہزار سترہ اور اٹھارہ کے مالی سال کا بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کر دیا ہے جس پر مختلف قسم کے ردعمل سامنے آئے ہیں
نوٹ بندی کے فیصلے کے بعد ہندوستان کے مرکزی وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے پہلا بجٹ پیش کیا - حکومت نے دعوی کیا ہے کہ بجٹ کو کاشتکاروں کے لئے سہولت فراہم کرنے ، دیہی ترقی ، غریبوں کے لئے مکان اور ڈیجیٹل معیشت جیسے دس حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے - حکومت نے دعوی کیا ہے کہ عام لوگوں کو آسانیاں فراہم کرنے کے لئے تین لاکھ روپئے تک کی آمدنی کو ٹیکس فری کردیا گیا ہے - بجٹ میں کہا گیا ہے کہ اب سیاسی پارٹیاں دوہزارروپئے سے زیادہ کا چندہ نقد رقم کی صورت میں نہیں لے سکیں گی - نئے بحٹ کے قانون کے مطابق بینکوں کا پیسہ لے کر ملک سے فرار کرنے والے ڈیفالٹروں کی جائیدادیں ضبط کرلی جائیں گی - بجٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی کو تین لاکھ روپئے سے زیادہ نقد رقم کے ٹرانزیکشن کی اجازت نہیں ہوگی - ہندوستان میں پہلی بار عام بجٹ میں ہی ریل بجٹ پیش کیا گیا ہے - بجٹ میں ملک کے دفاعی شعبے کے لئے دولاکھ چوہترہزار ایک سو چودہ کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں جبکہ ریلوے کے لئے ایک لاکھ اکتیس ہزار کروڑ روپئے رکھے گئے ہیں - حکومت نے جہاں بجٹ کو عام لوگوں اور غریبوں کا بجٹ قراردیا ہے وہیں حزب اختلاف نے بجٹ کو انتہائی مایوس کن بتایا ہے - حزب اختلاف نے کہا ہے کہ یہ بجٹ پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کو مد نظر رکھ کر بنایا گیا ہے اور اس میں صرف شاعرانہ اندازکی باتیں ہیں جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا ہے- کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے پارلیمنٹ کے احاطے میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تو بجٹ سے دھماکے کی امید تھی لیکن یہ بجٹ پھس کرکے رہ گیا - انہوں نے کہا یہ شعر وشاعری والا بجٹ ہے -ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس بجٹ میں نوجوانوں اور کسانوں کے لئے کچھ نہیں رکھا ہے - مغربی بنگال کی وزیراعلی ممتابنرجی نے بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ متنازعہ اور غیر مفید ہے - بہار کے وزیراعلی نتیش کمار نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں بہار کو کچھ نہیں دیا گیا ہے -