ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پیر کو بھی ہڑتال
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پیر کو دوسرے روز بھی عام ہڑتال رہی جبکہ ہندوستانی فوج نے متعدد مبینہ دراندازوں کو ہلاک کر دینے کا دعوی کیا ہے۔
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں اتوار کو ضمنی انتخابات کے دوران پرتشدد ہڑتال کے بعد پیر کو دوسرے روز بھی وادی میں ہڑتال رہی-
اتوار کو بھی پرتشدد مظاہروں کے دوران آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے- پیر کو ہڑتال کے باعث معمولات زندگی بری طرح مفلوج ہو گئے اور سبھی نجی اور تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی آئندہ کئی دنوں تک معطل کردی گئی-
دریں اثنا ہندوستانی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ شمالی ضلع کپواڑہ کے کیرن سیکٹر میں فوج نے دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی- مذکورہ ترجمان نے بتایا کہ دراندازوں کی ایک ٹیم کیرن سیکٹر میں ایل او سی کے قریب دراندازی کی کوشش کر رہی تھی لیکن سیکورٹی فورس نے یہ کوشش ناکام بنا دی جس میں چار درانداز ہلاک ہو گئے-
ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے- اس سے پہلے اتوار کو مسلح افراد نے جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن یہ حملہ بھی ناکام بنا دیا گیا- اتوار کو وادی میں ضمنی الیکشن کے موقع پر علیحدگی پسند جماعتوں کی اپیل پر عام ہڑتال رہی اور لوگوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا جس کی وجہ سے پولنگ کی شرح انتہائی کم رہی-
اتوار کو پولنگ کے دوران مظاہرین نے پولنگ اسٹیشنوں پر بھی حملہ کیا اور لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے منع کیا- اس درمیان سابق وزیراعلی عمر عبداللہ نے اتوار کو کشمیر میں ہوئے پرتشدد واقعات اور ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ بیس برسوں میں انہوں نے انتخابات کے موقع پر ایسے تشدد آمیز واقعات نہیں دیکھے تھے- انہوں نے اس صورت حال کا ذمہ دار ریاست جموں و کشمیر کی وزیراعلی محبوبہ مفتی کو قرار دیا-