آرمی جیپ سے باندھے گئے نوجوان کو دس لاکھ معاوضہ دینے کی ہدایت
جموں و کشمیر کے انسانی حقوق کمیشن نے محبوبہ مفتی حکومت کو آرمی جیپ سے باندھے گئے شخص کو 10 لاکھ روپے معاوضہ کے طور پر دینے کی ہدایت دی ہے۔
انسانی حقوق کمیشن نے فوجی جیپ سے باندھے گئے نوجوان کو معاوضہ دینے کے لئے چھے مہینے کا وقت دیا ہے۔
اس سال نو اپریل کو کشمیر میں پتھراؤ کر رہی بھیڑ سے بچنے کے لئے ہندوستانی فوج کے میجر لیتل گوگوئی نے کشمیری شخص فاروق احمد ڈار کو جیپ سے باندھ کر 'ہیومن شیلڈ' کے طور پر استعمال کیا تھا۔
اس شخص کو جیپ سے باندھنے والے میجر لیتل گوگوئی کو ہندوستانی فوج کے سربراہ نے اعزاز سے بھی نواز تھا۔
ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ متاثرہ فاروق احمد ڈار کو ریاستی حکومت کی جانب سے معاوضہ ملنا چاہئے۔
کمیشن نے اس معاملے میں فوج کو کسی طرح کا حکم نہیں دیا اور کہا کہ یہ فوج کے اختیارات میں نہیں ہے۔
ریاستی انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین جسٹس بلال ناجکی نے اپنے فیصلے میں کہا، 'مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ فاروق احمد ڈار کو ذہنی اور جسمانی طور پر تشدد برداشت کرنا پڑا۔