تاج محل مندر نہیں ، اسلامی تاریخی عمارت اور مقبرہ ہے: ہندوستانی محکمہ آثارقدیمہ
https://urdu.sahartv.ir/news/india-i295626-تاج_محل_مندر_نہیں_اسلامی_تاریخی_عمارت_اور_مقبرہ_ہے_ہندوستانی_محکمہ_آثارقدیمہ
ہندوستان کے محکمہ آثار قدیمہ نے پہلی بار تسلیم کیا ہے کہ تاج محل مندر نہیں بلکہ اسلامی تاریخی عمارت اور مقبرہ ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۲۶, ۲۰۱۷ ۱۷:۳۳ Asia/Tehran
  • تاج محل مندر نہیں ، اسلامی تاریخی عمارت اور مقبرہ ہے: ہندوستانی محکمہ آثارقدیمہ

ہندوستان کے محکمہ آثار قدیمہ نے پہلی بار تسلیم کیا ہے کہ تاج محل مندر نہیں بلکہ اسلامی تاریخی عمارت اور مقبرہ ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ہندوستانی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ہندوستان کے محکمہ آثار قدیمہ نے پہلی بار تسلیم کیا ہے کہ تاج محل مندر نہیں بلکہ اسلامی تاریخی عمارت اور مقبرہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق آگرہ کی عدالت میں تاج محل کو مندر قرار دیئے جانے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ محکمہ آثار قدیمہ کے حکام نے پہلی مرتبہ عدالت کو بتایا کہ تاج محل مندر نہیں بلکہ مقبرہ ہے جسے مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے اپنی ملکہ ممتاز بیگم کی یاد میں تعمیر کیا تھا۔ہندوستانی آثار قدیمہ کے حکام نے اس بات کے ثبوت میں انیس سو بیس  میں جاری کردہ سرکاری نوٹیفکیشن بھی پیش کیا جس میں تاج محل کی حفاظت کو یقینی بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔ سروے حکام نے درخواست گزاروں پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاج محل اسلامی عمارت ہے جب کہ درخواست گزاروں کا تعلق دیگر مذاہب سے ہے۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت گیارہ ستمبر تک ملتوی کردی ہے۔ سروے حکام کا کہنا ہے کہ تاج محل دنیا کا ساتواں عجوبہ شمار کیا جاتا ہے۔ انیس سو چار عیسوی میں انگریزی دور سے اسے ایسی یادگار اور تاریخی ورثہ قرار دیا گیا ہے جسکی حفاظت کی جانی چاہئے۔ ہندوستان کی مرکزی وزارت ثقافت ، نومبردوہزار پندرہ میں پہلے ہی لوک سبھا میں وضاحت کر چکی ہے کہ تاج محل کے مندر ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ واضح  رہے کہ اپریل دوہزار پندرہ میں چھے وکیلوں نے آگرہ کی عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا کہ تاج محل ہندوؤں کے بھگوان شیو کا مندر ہے لہذا یہ عمارت مذہبی مقاصد کے لیے ہندوﺅں کے حوالے کردی جائے۔

عدالت نے اس درخواست کی سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت ، مرکزی وزارت ثقافت ، ہوم سیکریٹری اور آرکیالوجیکل سروے سے جواب طلب کیا تھا جس پر سروے حکام نے اپنا جواب جمع کراتے ہوئےآگرہ کی مقامی عدالت کے حق سماعت کو بھی چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق تاج محل سے وابستہ کسی بھی معاملہ کی سماعت کا حق کسی مقامی عدالت کو حاصل نہیں ہے-