افغانستان: ہندوستانی انجینیئروں کی رہائی کی کوشش جاری
افغانستان کے صوبہ بغلان سے اغوا کئے گئے چھے ہندوستانی انجینیئروں کی رہائی کے لئے افغانستان اور ہندوستان کی حکومتوں کی کوشش جاری ہے۔
افغانستان کی طلوع نیوز ایجنسی نے خبردی ہے کہ ہندوستانی انجینیئروں کو صوبہ بغلان کے صدر مقام پل خمری کے مضافاتی گاؤں باغ شمل میں اغوا کیاگیا ہے۔مسلح افراد نے چھے ہندوستان انجینیئروں کو اس وقت اغوا کیا جب وہ بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ کی سائٹ کی جانب جارہے تھے۔
مغوی ہندوستانی انجینیئر افغانستان میں بجلی پیدا کرنے والی ہندوستانی کمپنی کے ای سی کے ملازم ہیں۔ افغانستان میں تعمیر نو میں مشغول کمپنیوں میں یہ کمپنی ہندوستان کی ایک بڑی کمپنی شمار ہوتی ہے۔
اگرچہ کسی گروپ نے اغوا کی اس واردات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم افغانستان کے صوبہ بغلان کے گورنر عبدالحئی نعمتی نے کہا ہے کہ ہندوستانی انجینیئروں کو طالبان نے اغوا کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مقامی قبائلی سرداروں کے ذریعے اغوا شدگان کی رہائی کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس درمیان ایک مسلح گروپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہندوستانی انجینیئروں کو افغان حکومت کے سرکاری ملازم شبہے میں اغوا کیاہے۔
ہندوستان کی وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ وہ افغانستان میں ہندوستانی انجینیئروں کے اغوا کی پوری صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمارنے کہا ہے کہ ہم افغان حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
افغانستان میں ہندوستانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ تعمیر نو کے عمل میں سرگرم ہندوستانی کمپنیوں میں ہندوستان کے ڈیڑھ سو سے زائد انجینیر اپنی خدمات پیش کررہے ہیں۔