ہر لڑکی کی پیدائش پر 111 درخت لگانے کی رسم
https://urdu.sahartv.ir/news/india-i330441-ہر_لڑکی_کی_پیدائش_پر_111_درخت_لگانے_کی_رسم
ہندوستان کے علاقے راجھستان کے گاوں پیپلانتری کی ایک انتہائی خوبصورت رسم جس نے علاقے کو سرسبز و شاداب بنا دیا
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jun ۲۸, ۲۰۱۸ ۰۹:۲۳ Asia/Tehran
  • ہر لڑکی کی پیدائش پر 111 درخت لگانے کی رسم

ہندوستان کے علاقے راجھستان کے گاوں پیپلانتری کی ایک انتہائی خوبصورت رسم جس نے علاقے کو سرسبز و شاداب بنا دیا

چند سال پہلے تک اس علاقے کے مکینوں کو چوری، ڈکیتی، آلودگی، جہالت، معاش اور نہ جانے کتنے ہی پیچیدہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا
لیکن گاوں کے مکھیا نے بھی قسم کھا رکھی تھی کہ وہ اپنے اس علاقے کو ایک مثالی علاقہ بنا کر ہی دم لیں گے
آخر کار ایک بہترین منصوبے کے ساتھ عملی میدان میں کودے اور انہوں نے گاوں والوں کو تجویز دی کہ جس کے گھر بھی بیٹی کی پیدائش ہو وہ ایک سو گیارہ درخت لگائے
بیٹیاں پیدا ہوتی رہیں اور انکے نام پر جنگل بستے رہے۔ جس گھر میں بھی بیٹی پیدا ہوتی ہے وہ اپنی بیٹی کے نام پر ایک سو گیارہ درخت لگاتا ہےاور یہی نہیں بلکہ ان درختوں کی بالکل اپنی بٹی کی طرح ہی حفاظت کرتا ہے
اب گاوں کی تمام گلیاں، پگ ڈنڈیاں اور راستے سرسبز درختوں اور پودوں سے بھر چکے ہیں اور یہاں جس طرف بھی دیکھئے درخت ہی درخت نظر آتے ہیں۔ ہریالی نے اس علاقے کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اور اب یہ بالکل محسوس نہیں ہوتا کہ گاوں میں جنگل آباد کئے جارہے ہیں بلکہ لگتا ہے کہ جیسے جنگل میں کچھ لوگ آکر بس گئے ہیں۔
خود گاوں کی لڑکیاں بھی اپنے نام پر لگائے جانے والے درختوں کی بہت زیادہ دیکھ بھال کرتی ہیں اور مختلف مناسبتوں پر گاوں کی لڑکیاں مل کر درختوں کےدرمیان خوشیاں مناتی نطر آتی ہیں۔
اب یہاں آلودگی نہیں ہے نہ ہی چوری اور ڈکیٹی ہوتی ہے کیونکہ یہاں موجود انواع و اقسام کے درختوں نے بے روزگار افراد کے لئے زریعہ معاش بھی فراہم کردیا ہے۔ اسی لئے مقامی افراد ان درختوں کا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں اور ان کی حفاظت کے لئے آلوویرا کی بہت بڑی تعداد کی کاشت کی جاتی ہے تاکہ ان درختوں کو مختلف کیڑے مکوڑوں کے حملوں سے بچایا جاسکے بالکل اسی طرح جس طرح اس گاوں میں بچیوں کی تعلیم کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے تاکہ وہ معاشرتی مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکیں