ہندوستان میں عام انتخابات کی سرگرمیاں
ہندوستان میں پارلیمانی الیکشن کے لئے سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدواروں کی فہرستیں جاری کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ ایک دوسرے کے خلاف الزامات کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے۔
نئی دہلی سے ہندوستانی خبر رساں ایجنسی یو این آئی نے رپورٹ دی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی بی جے پی نے ہفتے کے روز پارلیمانی انتخابات کے لئے مزید گیارہ امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا۔
اسی کے ساتھ کانگریس پارٹی نے بھی اپنے بتیس دیگر امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا۔ کانگریس پارٹی نے اسی کے ساتھ دو سیٹوں پر پہلے سے اعلان کئے گئے امیدواروں کو تبدیل کر دیا۔
دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی نے مشہور سوشلسٹ لیڈر اور مجاہد آزادی رام منوہر لوہیا کو کانگریس کی مخالف آواز بتاتے ہوئے الزام لگایا کہ ڈاکٹر لوہیا کے دکھائے راستے پر چلنے کا دعوی کرنے والی سماج وادی اور علاقائی پارٹیاں ان کے اصولوں کے ساتھ فریب کر رہی ہیں۔
اس دوران قومی دارالحکومت سے متصل گڑگاؤں نامی علاقے میں اقلیتی فرقہ کے ایک خاندان پر انتہا پسند ہندوؤں کے حملے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ کرتے ہوئے ان کا موازنہ ہٹلر سے کر دیا۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ نریندر مودی نے بھی ہٹلر کی طرح انتہا پسند قوم پرستوں کی ایک فوج تیار کر لی ہے جو مودی کے مخالفین کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔
اس درمیان دہلی پولیس نے اروند کیجریوال کو شکور بستی نامی علاقے میں ریلی کی اجازت نہیں دی جس پر دہلی کے وزیر اعلی نے کہا کہ دہلی پولیس نے مرکزی حکومت کے اشارے پر انہیں ریلی کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔