ہندوستان میں انتخابی گہماگہمی
ہندوستان میں پارلیمانی انتخابات کے لئے سیاسی پارٹیوں کی گہما گہمی تیز ہو گئی ہے۔
نئی دہلی سے موصولہ رپورٹ کے مطابق پارلیمانی انتخابات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کے لئے پارٹی کے نئی دہلی صدر دفتر میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہو رہا ہے۔
اس دوران کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے صحافیوں سے گفتگو میں اعلان کیا ہے کہ ان کی پارٹی کی حکومت بنی تو ملک کے غریبوں کے اکاؤنٹ میں سالانہ بہتر ہزار روپئے حکومت کی جانب سے جمع کئے جائیں گے۔
اس دوران ریاست آندھرا پردیش کے وزیراعلی و تلگودیشم پارٹی کے قومی صدر این چندر بابو نائیڈو نے ایک انتخابی جلسے سے خطاب میں وزیراعظم نریندر مودی پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اگر مودی دوبارہ وزیراعظم بنیں گے تو اقلیتوں کے موقف کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔
انہوں نے اسی کے ساتھ عوام کو خبردار کیا کہ وائی ایس آر کانگریس کو ووٹ دینا دراصل بی جے پی کوووٹ دینا ہے اس لئے تلگودیشم کو ہی ووٹ دیں۔
دوسری طرف حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر ارون جیٹلی نے حزب اختلاف کی جماعتوں بالخصوص کانگریس پارٹی پر بی جے پی کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔
ہندوستان کے پارلیمانی انتخابات سے متعلق ایک اور خبر یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کے دوران سیاسی پارٹیوں کی جانب سے کی جانے والی بائک ریلی اور روڈ شو پر پابندی لگانے سے متعلق عرضی کو خارج کر دیا۔