ہندوستان میں انتخابی گہماگہمی
https://urdu.sahartv.ir/news/india-i346891-ہندوستان_میں_انتخابی_گہماگہمی
ہندوستان میں پارلیمانی انتخابات کے لئے سیاسی جماعتوں کی انتخابی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے۔ ایک طرف کانگریس پارٹی نے اپنا انتخابی منشور جاری کردیا ہے تو دوسری طرف وزیر اعظم نریندر مودی ریاست بہار اور یوپی کے مختلف علاقوں میں ریلیوں اور انتخابی جلسوں سے خطاب میں مصروف ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۰۲, ۲۰۱۹ ۱۶:۱۱ Asia/Tehran
  • ہندوستان میں انتخابی گہماگہمی

ہندوستان میں پارلیمانی انتخابات کے لئے سیاسی جماعتوں کی انتخابی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے۔ ایک طرف کانگریس پارٹی نے اپنا انتخابی منشور جاری کردیا ہے تو دوسری طرف وزیر اعظم نریندر مودی ریاست بہار اور یوپی کے مختلف علاقوں میں ریلیوں اور انتخابی جلسوں سے خطاب میں مصروف ہیں۔

نئی دہلی سے ہندوستانی خبر رساں ایجنسی یو این آئی کے مطابق کانگریس پارٹی نے منگل کو اپنا انتخابی منشور جاری کر دیا۔ اس موقع پر کاںگریس کے صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں جھوٹے وعدے کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی کے منشور میں ایک بھی جھوٹا وعدہ نہیں کیا گیا ہے اور یہ مکمل طورپر حقیقت اور لوگوں کی خواہشات پر مبنی ہے۔

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، متحدہ ترقی پسند اتحاد کی صدر سونیا گاندھی، سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم اور سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی کی موجودگی میں اپنی پارٹی کا منشور جن آواز جاری کرتے ہوئے مسٹر راہل گاندھی نے کہا کہ یہ دستاویز بند کمرے میں بیٹھ کر نہیں بلکہ ملک کے کونے کونے میں بیٹھے لاکھوں افراد سے بات چیت کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ منشور کمیٹی سے صاف صاف کہہ دیا گیا تھا کہ پارٹی ایسا کوئی وعدہ نہیں کرے گی جسے پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔ اسی لیے صرف اس طرح کے وعدے کئے گئے ہیں جو حقیقی طور پر پورے کئے جا سکیں۔

دوسری طرف بی جے پی صدر امیت شاہ نے بھی ریاست تامل ناڈو میں میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب میں کانگریس پارٹی کے انتخابی منشور کو ہدف تنقید بنایا۔ اسی کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو مختلف مقامات پر انتخابی جلسوں اور ریلیوں سے خطاب کیا۔ انھوں نے ایک انتخابی جلسے سے خطاب میں کانگریس پارٹی پر غربت کو باقی رکھنے اور غریبوں کے استحصال کا الزام لگایا۔