ہندوستان میں تیز ہوتی ہوئیں انتخابی سرگرمیاں
ہندوستان میں گیارہ اپریل سے عام انتخابات کے لئے ووٹنگ کا مرحلہ شروع ہو جائے گا اس دوران سیاسی رہنماؤں کی انتخابی ریلیاں اپنے عروج پر ہیں۔
ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے پچھلے دنوں کی طرح جمعے کو بھی مختلف ریاستوں میں عوامی جلسوں اور انتخابی ریلیوں سے خطاب کیا-
انہوں نے ریاست اتراکھنڈ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے پانچ سال ملک کی خدمت کی ہے اس لئے ہم عوام سے یہی درخواست کرتے ہیں کہ وہ ایک بار پھر موقع دیں-
نریندر مودی نے ریاست اترپردیش کے شہر سہارن پور میں انتخابی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے حزب مخالف کی جماعت کانگریس پارٹی پر حملہ کرتے ہوئے اس پر بدعنوانی اور کرپیشن کا الزام عائد کیا-
دوسری طرف کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے میں یونیورسٹی کے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب کو سچائی کے ماحول میں جینا چاہئے، کسی کو بھی تشدد سے کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں راہل گاندھی نے کہا کہ میں نریندرمودی صاحب سے محبت کرتاہ وں حقیقت میں میرے دل میں ان کے لئے کوئی نفرت یا غضہ نہیں ہے- ساتھ ہی انہوں نے نریندر مودی کی حکومت کی نوٹ بندی کی پالیسی کو تباہ کن بتایا جس کا معیشت پر بہت اثر پڑا ہے-
اس درمیان بی جے پی کی سینیئر لیڈر اور لوک سبھا کی اسپیکر سمترا مہاجن نے پارٹی سے بظاہر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن لڑنے سے انکار کر دیا- وہ اندور کے پارلیمانی حلقے سے گذشتہ سات بارسے الیکشن جیت رہی تھیں۔