ہندوستان میں انتخابی گہما گہمی میں تیزی
ہندوستان میں انتخابی گہما گہمی بدستور جاری ہے اور حکمراں اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
ہندوستان میں پارلیمانی انتخابات سے متعلق مہم شدت کے ساتھ جاری ہے اور مختلف علاقوں مین مختلف پارٹیوں خاص طور سے بی جے پی اور کانگریس کے رہنماؤں کے روڈ شو جاری ہیں۔
حکمراں اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔
دریں اثنا ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے وارنسی سے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرا دیئے۔ اس موقع پر بی جے پی کے صدر امت شاہ، اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ، سشما سوراج اور نتن گڈکری، شرومنی اکالی دل کے رہنما پرکاش سنگھ بادل، بہار کے وزیراعلی نتیش کمار اور شیو شینا کے سربرا اودھے ٹھاکرے بھی موجود تھے۔
کاغذات نامزدگی داخل کراتے وقت ریاستی پارٹیوں کے رہنماؤں کی شرکت کو کانگریس نے نریندر مود کی ہار کے ڈر سے تعبیر کیا ہے۔ جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر کانگریس پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے ملک کے مختلف مسائل کا ذمہ دار کانگریس دور حکومت کو قرار دیا ہے۔
ادھر عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نےکہا ہے کہ دو ہزار انیس کے عام انتخابات ملک کی جمہوریت اور آئین کو بچانے کا الیکشن ہے اور ان انتخابات کے بعد وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والے اتحاد کو چھوڑ کر کسی بھی جماعت یا اتحاد کو حمایت دینے کیلئے تیار ہیں۔