ہندوستان کے عام انتخابات کا پانچواں مرحلہ، پیر کو پولنگ
ہندوستان میں پارلیمانی انتخابات کے پانچویں مرحلے کی پولنگ کا وقت جیسے جیسے قریب آتا جا رہا ہے پارٹی کارکنوں کا اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔
ہندوستان میں پارلیمانی انتخابات کے پانچویں مرحلے میں سات ریاستوں کی اکیاون نشستوں کے لئے ووٹنگ ہو گی۔
پانچوں مرحلے کی ووٹنگ کے لئے ہفتے سے انتخابی مہم ختم ہو چکی ہے تاہم انتخابات کے پانچویں مرحلے میں بعض نشستوں پر پائی جانے والی حساسیت کے پیش نظر پارٹی امیدواروں اور کارکنوں میں کافی بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔
پیر کو پانچویں مرحلے میں جن رہنماؤں کی قسمت کا فیصلہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں بند ہو گا ان میں کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی، ان کی ماں اور سابق کانگریسی صدر اور یو پی اے کی سربراہ سونیا گاندھی، مرکزی وزیر داخلہ اور سینیئر بی جے پی رہنما راجناتھ سنگھ اور مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی شامل ہیں۔
دریں اثنا انتخابات کے چھٹے مرحلے کے لئے تمام امیدواروں اور پارٹیوں کی انتخابی مہم تیز ہو گئی ہے اور بی جے پی اور کانگریس کی جانب سے ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ بھی بڑھ گیا ہے۔
ایک جانب سے ہندوستان کے وزیر اعظم نریدر مودی نے کانگریس کو گھیرنے کے لئے آنجہانی سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی پر کرپشن میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے تو دوسری جانب کانگریس کے صدر اور آنجہانی راجیو گاندھی کے بیٹے راہل گاندھی اور ان کی بیٹی پرینکا گاندھی نے سخت ردعمل کا اظہار رتے ہوئے نریندر مودی پر کڑی تنقید کی۔
دریں اثنا اطلاع ملی ہے کہ کانگریس نے اپنے پارٹی ترجمان شکیل احمد کو انتخابات میں پارٹی اصولوں کے منافی قدم اٹھانے پر پارٹی سے نکال دیا ہے۔ شکیل احمد مدھوبنی نشست سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔