ماب لینچنگ کے خلاف وزیراعظم کو خط لکھنے والی شخصیات پر مقدمہ
ہندوستان کے وزیر اعظم کو ملک میں ہجوم کے ذریعہ لوگوں کو پیٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف خط لکھنے والے لوگوں کے خلاف مقدمہ درج ہوگیا ہے۔
ہندوستانی فلم انڈسٹری کے بہت سے فنکاروں اور فلم سازوں کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے خطوں کے معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ اس معاملے میں فلمی صنعت کے تقریبا پچاس افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ جن لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ان میں فلمی دنیا کی رام چندرگوہا ، منی رتنم ، انوراگ کشیپ اور اپرنا سین جیسی مشہور شخصیات شامل ہیں۔
مقامی ایڈووکیٹ سدھیر کمار اوجھا نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سوریا کانت تیواری سے کھلا خط لکھنے والے افراد کے خلاف کیس درج کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ 'جوڈیشنل مجسٹریٹ نے بیس اگست کو احکامات جاری کیے، میری درخواست منظور کی جس کے بعد آج صدر تھانے میں ایف آئی آر درج ہوئی'۔ اوجھا نے بتایا کہ دستخط کرنے والے پچاس افراد پر ملک کی امیج خراب کرنے اور وزیر اعظم کے اچھے کام کو معمولی ظاہر کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ، ایف آئی آر کو تعزیرات ہند کی متعدد دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے ، جس میں ملک سے بغاوت ، مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور امن کو نقصان پہنچانے کی غرض سے توہین کرنے جیسی دفعات شامل ہیں ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہندوستانی فلم انڈسٹری کی بہت ساری مشہور شخصیات نے جولائی میں وزیر اعظم مودی کو ایک کھلا خط لکھا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ ہجوم سے تعلق رکھنے والے واقعات کی روک تھام کے لئے سخت قوانین بنائے جائیں اور ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ خط میں لکھا گیا تھا کہ آئین کے مطابق ہندوستان ایک سیکولر جمہوری ملک ہے جہاں ہر مذہب و ملت ، جنس اور ذات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ وزیر اعظم کی طرف سے ایسے واقعات پر محض تنقید سے کام نہیں چلے گا۔