ھندوستان کی سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو حکم دے دیا
Jan ۱۰, ۲۰۲۰ ۱۶:۰۹ Asia/Tehran
ہندوستانی سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو کشمیر میں انٹرنیٹ سروس پر عائد پابندی ہٹانے کا فوری طور پر جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس این وی رمن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے کشمیر ٹائمز کی ایڈیٹر انو رادھا بھسین اور سنیئر کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد کی اپیل پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ انٹرنیٹ سروس کے ساتھ ہی دیگر تمام پابندیوں کو ہٹانے کا بھی ایک ہفتے میں جائزہ لیاجائے۔
عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ انٹرنیٹ پرغیر معینہ مدت کی پابندی، ٹیلی کیمونیکیشن ضابطوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے انٹر نیٹ کو آزادی اظہار رائے کا ایک ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر طویل عرصے تک پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔
عدالت نے اپنے حکم میں مرکز کے زیر کنٹرول کشمیری انتظامیہ سے بھی کہا ہے کہ ان سبھی احکامات کو منظر عام پر لایا جائے جن کے تحت کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کی گئی ہے۔