منافرت پھیلانے والے ذرائع ابلاغ کے خلاف درخواست کی سماعت
https://urdu.sahartv.ir/news/india-i371599-منافرت_پھیلانے_والے_ذرائع_ابلاغ_کے_خلاف_درخواست_کی_سماعت
مقدمے کی سماعت چیف جسٹس اے ایس بوبڈے کی سربراہی والی تین رکنی بینچ کرے گی۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۲۷, ۲۰۲۰ ۰۵:۵۲ Asia/Tehran
  • منافرت پھیلانے والے ذرائع ابلاغ کے خلاف درخواست کی سماعت

مقدمے کی سماعت چیف جسٹس اے ایس بوبڈے کی سربراہی والی تین رکنی بینچ کرے گی۔

ہندوستانی میڈیا کے مطابق مسلسل زہر افشانی کرنے اور جھوٹی خبریں چلاکر مسلمانوں کی شبیہ کو داغدار اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کرنے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں اور اخبارات کے خلاف داخل کی گئی جمعیۃ علما ہند کی عرضی پر آج پھر سماعت ہوگی۔

جمعیتِ علمائے ہند نے جہاں مرکزی حکومت کے حلف نامہ پر جواب داخل کیا ہے وہیں اس نے گزشتہ جمعہ کو ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کی تبلیغی جماعت کے بارے میں آنے والے فیصلے کو بھی منسلک کیا ہے۔ معاملے کی سماعت چیف جسٹس اے ایس بوبڈے کی سربراہی والی تین رکنی بینچ کرے گی۔

جمعیت علماء ہند کے مطابق گزشتہ سماعت پر سینئر ایڈوکیٹ دُشینت دَووے نے عدالت کو بتایا تھا کہ تبلیغی مرکزکو بنیاد بنا کر پچھلے دنوں میڈیا نے جس طرح اشتعال انگیز مہم شروع کی اس سے نہ صرف مسلمانوں کی سخت دل آزاری ہوئی ہے بلکہ ان کے خلاف پورے ملک میں منافرت میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کو کورونا جہاد سے تعبیر کرکے یہ تاثر دینے کی مجرمانہ کوشش کی گئی کہ ملک میں اس وبا کو مسلمانوں نے پھیلایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کے اس اقدام سے عوام کی اکثریت نہ صرف گمراہ ہوئی بلکہ عام مسلمانوں کو لوگ شک کی نظرسے دیکھنے لگے ہیں۔