سرحدی معاملات پر ہندوستان اور چین کے مذاکرات میں ڈیڈ لاک
چین اور ہندوستان کے ساتھ ہونے والی 19 ویں دور کی بات چیت کی ناکامی کے بعد کانگریس پارٹی نے بدھ کو سوالات اٹھائے اور بی جے پی کے زیرقیادت مرکزی حکومت پر اپریل 2020 کے جمود کو بحال نہ کرنے پر تنقید کی۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری رندیپ سنگھ سرجے والا نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا کہ چین کے ساتھ بات چیت کا 19 واں دور ناکام ہو گیا ہے، پچھلے تین سالوں سے ہر بار بات چیت ناکام رہی ہے۔ اپریل 2020 کا جمود تین سال اور تین مہینے کے بعد بھی بحال نہیں ہو سکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فورسز ڈیم چوک کے قریب اسٹریٹیجک ڈی بی او فضائی پٹی یا جنکشن کے قریب ڈیپسنگ کے میدانوں پر 65 میں سے 26 گشت پوائنٹس پر گشت نہیں کر سکتیں اور یہ کہ گشت پوائنٹس کو چینیوں نے بلاک کر دیا ہے۔
حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سرجے والا نے کہا کہ مودی حکومت سے سوال ہے کہ چینیوں کے زیر قبضہ ہندوستانی علاقے کو کب خالی کرایا جائے گا اور چینی فوج کو کب پیچھے دھکیلا جائے گا؟
کانگریس لیڈر نے کہا کہ اگر کوئی ہندوستانی علاقے میں داخل نہیں ہوا تو پھر چینیوں سے بات چیت کیوں کی جا رہی ہے اور کیا آرمی چیف کا یہ کہنا غلط ہے کہ چینیوں نے ہندوستانی سرزمین پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے؟ مودی حکومت ’بھارت ماتا' کے تحفظ کے لیے بیان بازی سے آگے کب بڑھے گی؟‘واضح رہے کہ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مذاکرات کے 19ویں دور میں ڈیپسانگ کے میدانوں میں چینی موجودگی کے اہم مسئلے پر کوئی فوری پیش رفت نہیں ہوئی لیکن دونوں فریقین نے بقیہ مسائل کو تیزی سے حل کرنے پر اتفاق کیا ۔ منگل کو وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ میٹنگ 13-14 اگست کو چشول-مولڈو سرحدی میٹنگ پوائنٹ کے ہندوستانی حصے میں ہوئی تھی۔