ایٹمی معاہدے کے بارے میں ایران روس مذاکرات
جامع ایٹمی معاہدے کے بارے میں ایران اور روس کے درمیان مذاکرات تہران میں ختم ہوگئے ہیں۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے جامع ایٹمی معاہدے کے بارے میں ہونے والے دو طرفہ مذاکرات میں حصہ لیا۔
جامع ایٹمی معاہدے کی نگرانی کرنے والی ایرانی کمیٹی کے سربراہ سید عباس عراقچی نے اس موقع پر کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جامع ایٹمی معاہدے کی مکمل پاسداری کر رہا ہے
انہوں نے جامع ایٹمی معاہدے کے حوالے سے امریکہ کے غیر ذمہ دارانہ رویئے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے رویئے سے، عالمی مسائل اورمعاملات کے بارے میں امریکی حکام کے انتہا پسندانہ اور یکطرفہ نظریات کی نشاندھی ہوتی ہے۔
روس کے نائب وزیر خاجہ نے اس موقع پر جامع ایٹمی معاہدے کے حوالے سے ایران کے کردار اور اقدامات کو سراہتے ہوئے امریکہ کے یکطرفہ اقدامات اور پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی کی۔
سرگئی ریابکوف نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ جامع ایٹمی معاہدے کے منافی کسی بھی اشتعال انگیز اقدام سے گریز کرے۔
ایران اور پانچ جمع ایک گروپ نے جنوری دوہزار سولہ میں جامع ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا لیکن حکومت امریکہ نے معاہدے کے ایک رکن کی حثیت سے تاحال اپنا کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔
برطانیہ، فرانس، روس، چین، امریکہ اور جرمنی جامع ایٹمی معاہدے پر دستخط کرنے ولے پانچ جمع ایک گروپ کے رکن ممالک ہیں۔