برطانیہ پر ایران کی تنقید
ایران کے خارجہ تعلقات کی اسٹریٹیجک کونسل کے چیئرمین کمال خرازی نے کہا ہے کہ یمن کے بے گناہ عوام کے قتل عام کے لئے برطانیہ کی جانب سے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت علاقے کے عوام کے جذبات مجروح ہونے کا باعث بنی ہے۔
ایران کے خارجہ تعلقات کی اسٹریٹیجک کونسل کے چیئرمین کمال خرازی نے برطانوی پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کی پالیسی علاقے میں استحکام کے منافی رہی ہے اور یہ ملک علاقے میں دہشت گردی کی مالی مدد کرنے والے سعودی عرب جیسے ملک کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔
انھوں نے بحرین میں برطانوی وزیراعظم کے ایران مخالف بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے عراق و شام میں برسر اقتدار حکومتوں کی مدد کر کے ان کا شیرازہ بکھرنے سے روکا اور علاقے میں بدامنی و عدم استحکام کا مقابلہ کیا۔
کمال خرازی نے عراق و شام میں اغیار اور بعض عرب ملکوں کی مداخلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مداخلت پسند ملکوں نے ان ممالک کا سیاسی ڈھانچہ تبدیل کرنے کے لئے دہشت گرد گروہوں کو مضبوط بنایا یہاں تک کہ ان ملکوں کے بعض علاقوں پر دہشت گرد گروہوں کا قبضہ بھی ہو گیا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ برطانیہ کا اقتصادی تعاون اسی وقت فروغ پا سکتا ہے جب تہران کے سلسلے میں لندن کی پالیسی تبدیل ہو جائے اور علاقے میں ایران کے مثبت کردار کو تسلیم کر لیا جائے۔