ایران کی جانب سے سعودی حملوں کی مذمت
https://urdu.sahartv.ir/news/iran-i295324-ایران_کی_جانب_سے_سعودی_حملوں_کی_مذمت
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے یمن کے شہر ارحب کے ہاسٹل پر سعودی عرب کے جنگی طیاروں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۲۴, ۲۰۱۷ ۱۱:۱۶ Asia/Tehran
  • ایران کی جانب سے سعودی حملوں کی مذمت

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے یمن کے شہر ارحب کے ہاسٹل پر سعودی عرب کے جنگی طیاروں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں سے سعودی عرب کے ہاتھوں یمن کے عام شہریوں کے قتل عام کی تحقیقات کرائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سعودی بمباری میں جاں بحق ہونے والوں کے پسماندگان سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا ہے کہ رہائشی اور غیر فوجی علاقوں پر سعودی حملوں میں شدت اور ریاض کی جانب سے ذمہ دار بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کے امدادی کاموں میں روکاوٹ ڈالنا انسان دوستانہ اصول و ضوابط کے منافی ہے۔
بہرام قاسمی نے اقوام متحدہ اور بحران یمن میں موثر ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی حملوں کو فوری طور پر رکوانے کے لئے اپنی کوششوں کو تیز کرتے ہوئے یمن کے عام شہریوں خاص طور سے خواتین اور بچوں کی جان کی حفاظت کے لئے لازمی تدابیر اور ضروری اقدامات انجام دیں۔
بین الاقوامی امور میں ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر خاص امیر عبداللہیان نے بھی یمن میں سعودی عرب کے جرائم پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بحران یمن کا ہرگز کوئی فوجی راہ حل نہیں ہے۔
حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ سعودی عرب کے فوجیوں کی جارحیت جاری رہنا اور یمن کے مظلوم عوام کا قتل عام، حج ابراہیمی کے ارکان و مناسک کی انجام دہی کے فلسفے کی کھلی توہین اور بے حرمتی ہے۔
بدھ کو یمن کے شہر ارحب میں ایک ہاسٹل پر سعودی عرب کے جنگی طیاروں کے حملوں میں کم سے کم چھیالیس افراد جاں بحق اور دسیوں افراد زخمی ہوگئے۔
سعودی عرب امریکہ کی حمایت اور عالمی برادری کی خاموشی کے سائے میں مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ بمباری اور حملوں کے ساتھ ہی اس ملک کا زمینی ، فضائی اور بحری محاصرہ کئے ہوئے ہے جس کا مقصد اس ملک پر تسلط جمانا اور  مفرور و معزول صدر منصور ہادی کی کٹھ پتلی حکومت کو دوبارہ اقتدار میں لانا ہے جنھیں اس ملک کے عوام مسترد کر چکے ہیں۔
یمن پر سعودی عرب کی جارحیت میں بارہ ہزار سے زیادہ شہری جاں بحق اور دسیوں ہزار زخمی اور لاکھوں افراد در بدر ہوچکے ہیں جبکہ اس ملک کی بنیادی تنصیبات بھی پوری طرح تباہ و برباد ہوچکی ہیں۔
یمن پر سعودی عرب کی فوجی جارحیت اور ناکہ بندی سے اس غریب ملک کو غذائی اشیاء اور دواؤں کی شدید قلت کا سامنا ہے اور ہیضے سمیت مختلف بیماریوں نے اس ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔