سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکا کو پھر ہزیمت کا سامنا
عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں بھی امریکی مندوب نے ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات کی تکرار کی- جس کے بعد انہیں روس کے وزیرخارجہ اور چینی سفیر کے سخت جواب کا سامنا کرناپڑا۔
اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلی نے عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف واشنگٹن کے مخاصمانہ موقف کی تکرار کرتے ہوئے دعوی کیا کہ تہران نے ایٹمی پروگرام کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
نکی ہیلی نے دعوی کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کرنے کی بنا پر ایران کے اقدامات کا جواب دینا چاہئے البتہ اس جواب کا مطلب ایٹمی معاہدے کی منسوخی نہیں ہے۔انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ امریکا بدستور ایٹمی معاہدے کا پابند ہے۔
دوسری جانب روسی وزیرخارجہ نے اس اجلاس میں خبردار کیا کہ بعض ملکوں کے مفادات کو ایٹمی معاہدے کے لئے خطرہ نہیں بننا چـاہئے۔ روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ ماسکو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ بعض ملکوں کے سیاسی مفادات ایٹمی معاہدے کو خطرے سے دوچار کریں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایٹمی معاہدے کی حمایت اور توثیق کی ہے، کہا کہ ایران نے اب تک ایٹمی معاہدے کی پابندی کی ہے۔
روسی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ این پی ٹی معاہدے کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر دنیا ایسی مشکلات سے دوچار ہے جو اس معاہدے کے مقاصد کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
اقوام متحدہ میں چینی سفیر نے بھی ایٹمی معاہدے کو کثیر فریقی معاہدہ قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ عالمی مسائل کے حل کے لئے ایک بہترین ماڈل ہے۔
چینی سفیر نے اس اجلاس میں کہا کہ بیجنگ ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے اپنے وعدے پر کاربند ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس معاہدے پر مکمل اور موثر طریقے سے عمل درآمد ہونا چاہئے۔
چینی سفیر کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی رویوں میں دوہرے معیار کو اب ختم کیا جانا چـاہئے۔انہوں نے کہا کہ این پی ٹی کے مقاصد تک پہنچنے کے لئے پہلے قدم کے طور پر سبھی کے حقوق کو برابری کی نگاہ سے دیکھنا ہوگا۔
اقوام متحدہ میں چینی مندوب نے کہا کہ ملکوں کو پرامن مقاصد کے لئے ایٹمی ٹیکنالوجی سے استفادے سے منع کرنے کے بجائے عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ ایسا ماحول فراہم کرے کہ سبھی ممالک ایٹمی ٹیکنالوجی سے پرامن مقاصد کے لئے بہترین انداز میں استفادہ کرسکیں اور کوئی بھی ملک اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے حق سے محروم نہ رہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی اس اجلاس میں کہا کہ ایٹمی معاہدے کی حمایت ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی معاہدے کے لئے کوئی بھی خطرہ بین الاقوامی سلامتی کے لئے مشکلات پیدا کرے گا۔