اسلامی انقلاب کی چالیسویں سالگرہ کی تقریبات کا آغاز
https://urdu.sahartv.ir/news/iran-i343327-اسلامی_انقلاب_کی_چالیسویں_سالگرہ_کی_تقریبات_کا_آغاز
اسلامی انقلاب کی پرشکوہ کامیابی کی چالیسویں سالگرہ کی تقریبات اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی کی فاتحانہ انداز میں تاریخی وطن واپسی کی سالگرہ کے موقع پر باضابطہ طور پر شروع ہوگئی ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۰۱, ۲۰۱۹ ۱۱:۱۶ Asia/Tehran
  • اسلامی انقلاب کی چالیسویں سالگرہ کی تقریبات کا آغاز

اسلامی انقلاب کی پرشکوہ کامیابی کی چالیسویں سالگرہ کی تقریبات اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی کی فاتحانہ انداز میں تاریخی وطن واپسی کی سالگرہ کے موقع پر باضابطہ طور پر شروع ہوگئی ہیں۔

عشرہ فجر اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کی چالیسویں سالگرہ کی تقریبات کے پہلے دن تہران میں امام خمینی کے حرم میں ایک شاندار اور پرشکوہ تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں ملک کی اہم سول اور فوجی شخصیات اور عوام کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ ایران کی مذہبی اقلیتوں کے نمائندوں نے بھی پرجوش طریقے سے حصہ لیا۔
اس تقریب کو خطاب کرتے ہوئے مجلس خبرگان کے سربراہ آیت اللہ احمد جنتی نے عشرہ فجر اور اسلامی انقلاب کی چالیسویں سالگرہ کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ دشمنوں نےگذشتہ چالیس برسوں کے دوران اسلامی انقلاب کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ اپنی کوششوں، سازشوں اور منصوبوں میں ناکام رہے۔
آیت اللہ احمد جنتی نے کہا کہ آج اسلامی انقلاب کی جڑیں انتہائی مستحکم ہوچکی ہیں جبکہ امریکی حکام اب اپنے ملک کاانتظام چلانے میں بھی بے بسی کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج امریکا میں دسیوں لاکھ افراد بھوکے ہیں جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں اور امریکا اب تباہی کے طرف بڑھ رہا ہے۔
مجلس خبرگان کے سربراہ آیت اللہ احمد جنتی نے کہاکہ اب امریکا کی صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ خوداس کے اتحادی بھی اس کی بات کو کوئی اہمیت نہیں دے رہے ہیں اور امریکا کا خوف ان کے دلوں سے نکل چکا ہے لیکن ایران کے اسلامی انقلاب کا اثر علاقے سے نکل کر دنیا کے دیگر خطوں تک پھیل چکا ہے۔
عشرہ فجر کی تقریبات کے پہلے دن کی تقریب میں جو امام خمینی کے حرم مطہر میں منعقد ہوئی انقلابی عوام کی موجودگی میں اس مقام پر پھول برسائے گئے جہاں بہشت زہرا نامی قبرستان میں امام خمینی نے وطن واپسی پر قوم کو سب سے پہلے خطاب کیا تھا۔
تقریب میں موجود دسیوں ہزاروں لوگوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی امام خمینی کے اصولوں، رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی رہنمائیوں اور شہدا کے خون سے تجدید عہد کیا۔
عشرہ فجر کی چالیسویں سالگرہ کی تقریبات کے پہلے دن پورے ملک کی مساجد میں نماز شکرانہ ادا کی گئی اور ٹھیک اسی وقت جب امام خمینی چالیس سال قبل جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے کے بعد پیرس سے تہران پہنچے تھے کلیساؤں میں ناقوس بجائے گئے جبکہ مہرآباد ہوائی اڈے سے بہشت زہرا تک جس راستے سے امام خمینی گذرے تھے اس میں پھول برسائے گئے۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی کی چالیسویں سالگرہ کی تقریبات دمشق میں بھی منعقد ہوئیں جن میں شام اور دنیا کے دیگر ملکوں کی سیاسی اور علمی شخصیات نے شرکت کی۔
دمشق میں منعقدہ ایک تقریب کو خطاب کرتے ہوئے شام میں رہبرانقلاب اسلامی کے نمائندے آیت اللہ سید ابوالفضل طباطبائی نے کہا کہ ایران کے اسلامی انقلاب کے بڑھتے ہوئے قدم کو روکنے کے لئے عالمی سامراج کی چالیس برسوں کی کوششوں کے باوجود آج یہ انقلاب پورے شکوہ وجلال اور عزت و عظمت کے ساتھ اپنی جگہ پر قائم ہے اور پوری دنیا میں استقامتی محاذ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ چالیس سال قبل یکم فروری انیس اناسی کو اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی پندرہ سالہ جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے کے بعد اس وقت ایران واپس آئے جب آّپ کی قیادت میں اسلامی انقلاب کی جد و جہد اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔
وطن پہنچنے پر امام خمینی کا تاریخی اور عدیم المثال استقبال کیا گیا اسی لئے یکم فروری سے گیارہ فروری تک کے ایام کو جس دن یہ انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہوا تھا ایران میں عشرہ فجر یا اسلامی انقلاب کی کامیابی کی دس روزہ تقریبات کا جشن منایا جاتا ہے۔