عالمی دہشت گردی کا خاتمہ عالمی تعاون کا مرہون منت : حیدرالعبادی
عراق کے وزیراعظم حیدرالعبادی نے کہا ہے کہ دہشت گردی قوموں اور ملکوں کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے سنجیدہ عالمی تعاون کی ضرورت ہے
عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ دہشت گردی کوگھیرنے کے لئے اس کے مالی و فکری ذرائع کو ختم کرنے اور دہشت گردوں کو بھرتی کرنے کے اڈوں کو تباہ کرنے کے لئے سنجیدہ اور بھرپور تعاون کی ضرورت ہے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تودہشت گردی کا خطرہ تمام ممالک تک پہنچ جائے گا اور اس کے نتیجے میں پناہ گزینوں اور مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوگا-
حیدرالعبادی نے تاکید کے ساتھ کہا کہ داعش گروہ غیرمسلموں کا دشمن ہونے سے پہلے ، مسلمانوں کا اصلی دشمن ہے- اس گروہ نے ہزاروں مسلمانوں کو قتل کیا بہت سے عرب اور اسلامی ممالک کو ویران کیا اور اس کے بعد اپنا شر دنیا کے دوسرے ممالک تک بھی پہنچا دیا ہے -
عراقی وزیراعظم نے کہا کہ داعش نے فرانس ، بیلجیئم ، جرمنی ، امریکہ ، روس اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی عام شہریوں کو قتل اورہراساں کردیا ہے لہذا اس کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے تعاون کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے-
عراقی وزیراعظم نے کہا کہ داعش دہشت گرد گروہ ، اہلسنت کے دفاع کا جھوٹا دعوی کرتا ہے اورعراق میں شیعہ ، سنی ، عیسائی ، ایزدی ، عرب ، کرد اور ترکمن کو قتل کرتا ہے- حیدرالعبادی نے تاکید کے ساتھ کہا کہ عراق کے بزرگ عالم دین مرجع تقلید آیت اللہ سیستانی کا فتوی داعش دہشت گرد گروہ کا مقابلہ کرنے میں اہم قدم ثابت ہوا ہے- حیدرالعبادی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ عراقی پناہ گزینوں کی مزید حمایت کرے اور ترکی سے مطالبہ کرے کہ وہ شمالی عراق سے اپنے فوجی باہر نکالے-