شام میں فائر بندی پر عمل درآمد شروع
شام میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات سے فائر بندی پر عمل درآمد شروع ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے کہا ہے کہ فائر بندی کے بارے میں حکومت شام کی رضامندی، اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ دہشت گردی کے مقابلے میں کامیابی کے بارے میں دمشق کو پورا یقین ہے۔
انھوں نے کہا کہ فائر بندی کا اطلاق داعش، جبہت النصرہ اور ان سے وابستہ دیگر تمام دہشت گرد گروہوں اور اسی طرح ان گروہوں پر بھی نہیں ہو گا کہ جنھوں نے فائر بندی کے معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں۔ شام کے وزیر خارجہ کے مطابق ان تمام گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ولید المعلم نے کہا کہ فائر بندی کا نفاذ ایک بہترین موقع ہے تاکہ بحران شام کے سیاسی حل کی طرف بڑھا اور اس ملک سے جنگ و خونریزی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ شام کو روس کی ضمانت پر فائر بندی پر یقین ہے اس لئے کہ روس، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شام کا اتحادی ہے جبکہ ترکی پر زیادہ یقین نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب شام میں فائر بندی کا نفاذ عمل میں آتے ہی شام مخالف مسلح گروہوں کی جانب سے فائر بندی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروہ نے اعلان کیا ہے کہ شام مخالف مسلح گروہوں نے فائر بندی کا نفاذ عمل میں آنے کے تھوڑی ہی دیر کے بعد صوبے حماہ میں حکومت شام کے ایک مرکز کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا۔
علاقے کے بعض عرب ذرائع ابلاغ نے درعا اور قنیطرہ صوبوں میں بھی فائر بندی کی خلاف ورزی کیے جانے کی خبر دی ہے۔ تاہم شام کے بیشتر علاقوں میں جھڑپوں کا سلسلہ بند رہنے کی اطلاع ملی ہے۔
اس سے قبل شام کی مسلح افواج کی کمیٹی نے جمعرات کے روز ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ انتیس دسمبر کی رات بارہ بجے سے فوجی اقدامات روک دیئے جائیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ شام میں فائر بندی کا نفاذ گذشتہ کئی عشروں کے دوران مشرق وسطی سے متعلق ایسی پہلی بین الاقوامی سفارتی کوشش ہے جو امریکہ کے بغیر بروئے کار لائی گئی ہے۔ شام میں فائر بندی سے متعلق مذاکرات میں امریکہ کو شامل نہیں کیا گیا ہے اور شام کے امن مذاکرات کے آئندہ دور میں بھی، جو قزاقستان میں منعقد ہو گا، امریکہ کو شامل نہ کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔