جنیوا 5 مذاکرات کا اختتام
https://urdu.sahartv.ir/news/islamic_world-i277592-جنیوا_5_مذاکرات_کا_اختتام
جنیوا میں شام کے مذاکرات کار وفد کے سربراہ نے کہا ہے کہ جنیوا پانچ مذاکرات کا اختتام ایسی حالت میں ہوا ہے کہ شامی وفد کے سوالات اور تجاویز کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۰۱, ۲۰۱۷ ۱۰:۱۸ Asia/Tehran
  • جنیوا 5 مذاکرات کا اختتام

جنیوا میں شام کے مذاکرات کار وفد کے سربراہ نے کہا ہے کہ جنیوا پانچ مذاکرات کا اختتام ایسی حالت میں ہوا ہے کہ شامی وفد کے سوالات اور تجاویز کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق حکومت شام کے مذاکرات کار وفد کے سربراہ بشار جعفری نے جمعے کے روز جنیوا پانچ مذاکرات کے اختتام پر کہا ہے کہ یہ بات باعث حیرت ہے کہ مقابل فریق دہشت گردی کے خلاف مہم اور بحران شام کے سیاسی حل کے درپے نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب بشار جعفری نے کہا کہ شام کے مسلح مخالفین صرف ایک بات کے خواہاں ہیں اور وہ یہ کہ شام کا اقتدار ان کے سپرد کر دیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ شام کے مسلح مخالفین صرف بیرونی آلہ کار ہیں اور ان کے وفد نے اس بات کی نشاندہی کردی ہے کہ اسے دہشت گردی کی حمایت کرنے کے علاوہ اور کوئی حکم نہیں ملا ہے۔

بشار جعفری نے کہا کہ شام کا مستقبل صرف شامی عوام ہی طے کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ جنیوا پانچ مذاکرات نو روز تک جاری رہنے کے بعد شام کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے اسٹیفن دیمستورا کی پریس کانفرنس کے ساتھ ختم ہو گئے۔ انھوں نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے اس دور میں چار موضوعات منجملہ بنیادی آئین کی تدوین، انتخابات کے انعقاد، حکومت کی تشکیل کے عمل اور دہشت گردی کے خلاف مہم کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔ دیمستورا نے کہا کہ ان مذاکرات سے کسی معجزے کی توقع نہیں رکھی جانی چاہئے اور جب تک تمام مسائل پر مفاہمت نہیں ہو جاتی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کوئی سمجھوتہ طے پا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مذاکرات میں شریک فریقوں نے مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت کے لئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے تاہم مذاکرات کے آئندہ دور کے بارے میں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے صلاح و مشورے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکے گا۔  قابل ذکر ہے کہ شام کا بحران دو ہزار گیارہ میں اس ملک کی قانونی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے امریکہ، سعودی عرب، ترکی اور امریکہ کے دیگر اتحادی ملکوں کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے حملے سے شروع ہوا ہے۔