صیہونی فوجیوں کی وحشیانہ کارروائیاں
صہیونی فوجیوں نے اپنی وحشیانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے غزہ پٹی میں ایک فلسطینی نوجوان کو گولی مارکر شہید اور کم سے کم دس فلسطینیوں کو زخمی کردیا۔
فلسطین کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ صیہونی فوجیوں نے غزہ پٹی کے کیمپ البریج کے مشرق میں فائرنگ کرکے ایک فلسطینی نوجوان کو شہید اور دو دیگر کو زخمی کردیا۔
صیہونی فوجیوں نے غزہ کے شمالی علاقے جبالیہ میں بھی فلسطینیوں پر فائرنگ کرکے کم سے کم پانچ فلسطینیوں کو زخمی کردیا۔
مشرقی غزہ میں بھی ناحل غوز کے علاقے میں اسرائیلی فوجیوں نے ایک فلسطینی کو گولی مار کر زخمی کردیا جبکہ خان یونس کے مشرق میں بھی صیہونی فوجیوں نے دو فلسطینیوں کو گولی مارکر زخمی کردیا۔
صیہونی فوجیوں نے بیت حانون گذرگاہ کے اطراف میں بھی فلسطینیوں پر حملہ کیا ہے۔
اس درمیان فلسطینی مجاہدین کی مزاحمت اور استقامت کے نتیجے میں مسجد الاقصی کے اطراف میں صیہونی حکومت کی سیکورٹی فورس کی عقب نشینی کے بعد اسرائیلی پولیس کے سربراہ نے اپنے اسسٹنٹ کو برطرف کردیا ہے۔
صیہونی حکومت کے ریڈیو نے خبردی ہے کہ اسرائیلی پولیس نے مسجد الاقصی کے اطراف میں فلسطینیوں کے ہاتھوں اسرائیلی سیکورٹی فورس کی شکست کے بعد اچانک اپنے اسسٹنٹ کو برطرف کردیا ہے۔
مسجد الاقصی کے اطراف میں پچھلے دوہفتوں سے فلسطینی انقلابیوں اور صیہونی حکومت کی سیکورٹی فورس کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جن کے دوران صیہونی حکومت کو پسپائی اختیار کرنی پڑی ہے۔
اس سے پہلے صیہونی حکومت کے وزیرتعلیم اور خانہ یہود نامی پارٹی کے لیڈر نفتالی بنت نے بھی کہا تھا کہ صیہونی حکومت کی کابینہ نے مسجد الاقصی کے اطراف میں سیکورٹی تدابیر سے جو پسپائی اختیار کی ہے اس سے اسرائیل کمزور ہوگا۔
واضح رہےکہ صیہونی حکومت کے فوجیوں نے چھبیس جولائی کو مسجد الاقصی کے مشرقی دروازے باب الاسباط کے باہر کھڑی کی گئی سیکورٹی بیریئر اور حصار کو ہٹالیا ہے اور اس اقدام کو فلسطینی استقامت کی فتح اور صیہونی حکومت کی پسپائی قراردیا جارہاہے۔
پچھلے دوہفتوں کے دوران غزہ، غرب اردن اور مشرقی بیت المقدس میں صہیونی فوجیوں اور فلسطینی نوجوانوں کے درمیان ہونےوالی جھڑپوں میں کم سے کم سولہ فلسطینی شہید اور چودہ سو سے زائد زخمی ہوئےہیں۔