سعودی اتحاد کے ٹھکانوں پر یمنی فوج کے حملے
یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں سعودی فوجی اتحاد کے ٹھکانوں پر حملے کرکے انہیں بھاری نقصان پہنچایا ہے۔
صنعا میں عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے جنوب مغربی صوبے تعز کے ذباب ٹاؤن کے کوہستانی علاقے میں واقع سعودی اتحاد کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی ہے۔ اسی علاقے میں ایک اور کارروائی کے دوران سعودی فوجی اتحاد کے کئی ٹھکانوں کو زلزال میزائل سے نشانہ بنا کر تباہ کردیا گیا ہے۔ ان حملوں میں سعودی اتحاد کے متعدد فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے مشترکہ میزائل یونٹ نے یختل کے علاقے میں بھی سعودی فوجی اتحاد کے ایک ٹھکانے کو میزائل کا نشانہ بنا کر تباہ کردیا ہے۔صوبہ البیضا اور صنعا کے مختلف علاقوں میں بھی سعودی فوجی اتحاد کے متعدد ٹھکانوں پر یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں کے میزائل حملوں کی خبریں ملی ہیں۔شمال مغربی صوبے حجہ کے علاقے صحرائے میدی میں بھی یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے میزائل حملے میں سعودی اتحاد کے درجنوں فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یمنی فوج کے نشانہ بازوں نے جنوبی سعودی عرب کے صوبے عسیر کی سرحدی پٹی پر ایک کارروائی کے دوران پانچ سعودی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔یمنی فوج نے بارہا یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ جب تک سعودی عرب کے وحشیانہ حملے بند نہیں ہوجاتے سعودی عرب اور اس کے اتحادی فوجیوں کے خلاف میزائل حملے جاری رہیں گے۔دوسری جانب یمن کے وزیر دفاع محمد ناصر العاطفی نے سعودی اتحاد کے فوجیوں کے مقابلے جنگ کی اسٹریٹیجی میں تبدیلی پر زور دیا ہے۔میدان جنگ کی تازہ ترین صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے یمن کے وزیر دفاع کا کہنا تھاکہ دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی فوجی حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے اور اس پر جلد عملدرآمد شروع کردیا جائے گا۔یمن کے وزیر دفاع نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ دشمن کو یمنی عوام کے خلاف جارحیت اور مجرمانہ اقدامات کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔