عراقی پارلیمنٹ میں کردستان کے خلاف فیصلوں کی منظوری
عراقی پارلیمنٹ نے اپنے خصوصی اجلاس میں ریفرنڈم کرانے کی بنا پر عراقی کردستان کے علاقے کے حکام کے خلاف سخت فیصلے کئے ہیں۔
عراق کے وزیراعظم، اور وزرائے پیٹرولیم، داخلہ اور دفاع نیز عراق کے قومی سلامتی کے مشیر کی شرکت سے تشکیل پانے والے عراقی پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں عراقی کردستان کے علاقے کے سربراہ مسعود بارزانی کے خلاف قانونی کارروائی کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور تادیبی اقدامات عمل میں لائے جانے پر تاکید کی گئی۔
عراق کردستان کے خلاف تادیبی اقدامات میں اس علاقے کی سرحدوں کو مسدود کئے جانے کے علاوہ مرکزی حکومت کے اداروں میں کام کرنے والے ان تمام کردوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کئے جانے کی بات کہی گئی ہے جنھوں نے کردستان کے ریفرنڈم میں شرکت کی ہے۔ اسی طرح کردستان کی سرحدوں سے گذر کر آنے والی مصنوعات کو اسمگلنگ کی اشیا قرار دیا گیا ہے۔
عراقی پارلیمنٹ نے اپنے ملک کے وزیراعظم حیدر العبادی سے بھی کہا ہے کہ وہ اختلاف سے دوچار علاقوں منجملہ کرکوک میں سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ اس علاقے کے تیل کے کنوؤں کو عراق کی وزارت تیل کے کنٹرول میں لانے کے لئے ضروری ہدایات جاری کریں۔
عراقی پارلیمنٹ کے فیصلے کے مطابق عراق کی حکومت تمام عراقی شہریوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہے اور عراقی کردستان میں ہونے والا ریفرنڈم بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔