عراق میں داعش کے آخری ٹھکانے پر حملے کا آغاز
عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے عراق کے مغربی علاقے میں داعش کے آخری ٹھکانے پر حملہ کرنے کا حکم جاری کردیا ہے
عراقی فوج نےوزیر اعظم حیدر العبادی کے فرمان پر مغربی عراق میں القائم اور راوہ نامی علاقوں کو آزاد کرانے کے لئے تین طرف سے کارروائی شروع کر دی ہے۔خبروں کے مطابق عراق کے صوبے الانبار میں القائم کے علاقے میں عراقی فوج کی کارروائی شروع ہوتے ہی داعش دہشت گرد گروہ کے سیکڑوں عناصر اجتماعی طور پر شام کی طرف فرار ہو گئے ہیں۔عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی نے القائم کے جنوب مغربی علاقے میں آپریشن کی ذمہ داری سنبھالی ہےعراق کے فوجی ذرائع نے بھی اعلان کیا ہے کہ حکومت عراق پہلے مرحلے میں اردن اور شام کی طرف سے صوبے الانبار کے صدر مقام الرمادی کی طرف جانے والے بین الاقوامی راستے میں امن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔الحشدالشعبی کے ترجمان احمد الاسدی نے اس سے قبل کہا تھا کہ القائم، راوہ اور صحرا کے علاقوں کو آزاد کرانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔داعش دہشت گرد گروہ نے شام سے ملحقہ عراق کے ان سرحدی علاقوں پر گذشتہ تین برسوں سے قبضہ کر رکھا ہے۔دوسری جانب صوبے نینوا میں عراقی فوج کے داخل ہوتے ہی کرد پیشمرگہ فورس کے پانچ ہزار جوان اپنے تمام فوجی وسائل کے ساتھ عراقی فوج میں شامل ہو گئے۔پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے حکام نے بھی اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کردستان کی ڈیموکریٹک پارٹی نے پیشمرگہ وزارت میں سنجار و دشت نینوا کے لئے جو فورس تشکیل دی تھی وہ اپنے ہتھیاروں کے ساتھ عراقی فوج میں شامل ہو گئی ہے۔عراقی فوج میں شامل ہونے والے ان نوجوانوں کی تعداد پانچ ہزار تھی قابل ذکر ہے کہ عراق کی فوج اور پولیس اہلکاروں نے عراقی پارلیمنٹ کے فیصلے کی بنیاد پر گذشتہ ہفتے پیر کے دن ان علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بارے میں جو دو ہزار چودہ میں داعش کے حملے سے قبل تک عراقی حکومت کے کنٹرول میں تھے، کرکوک کی طرف روانگی کا آغاز کیا اور پھر وہ کرکوک، نینوا اور دیالہ کے تمام متنازعہ علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب ہو گئے۔