سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں پر یمنی فوج کے حملے
یمنی فوج نے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جارحیتوں کے جواب میں صنعا کے مشرق میں سعودی فوجی اتحاد کے ٹھکانوں پر میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔
المسیرہ ٹیلی ویژن چینل نے خبر دی ہے کہ یمنی فوج کے میزائل یونٹ نے پیر کو یمن کے صوبہ صنعا کے شہر نہم کے علاقے نقیل الفرضہ محلے میں سعودی عرب کے اتحادی فوجیوں کے ٹھکانوں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں سعودی اتحاد کے متعدد فوجی ہلاک ہو گئے-
اتوار کی شام بھی یمنی فوج کے میزائل یونٹ نے نہم کے ہی علاقے میں سعودی اتحادی فوجیوں کے ٹھکانوں پر حملہ کر کے کئی ٹھکانوں کو تباہ کر دیا تھا-
یمنی فوج اور عوامی رضاکارفورس کے جوانوں نے یمن کے جنوب مغربی صوبے لحج میں بھی سعودی عرب کے اتحادی فوجیوں کے ٹھکانوں پرمیزائلوں سے حملہ کیا-
اس درمیان سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے اپنی وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پیر کو بھی یمن کے مختلف علاقوں پر بمباری کی-
یمن کے ساحلوں پر تعینات پر سعودی عرب کے بحری جنگی جہازوں نے بھی جنوب مغربی صوبے تعز کے کئی علاقوں پر گولہ باری کی-
دریں اثنا اطلاعات ہیں کہ یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ نے ایک سو ساٹھ افراد کو رہا کر دیا ہے جو دسمبر کے اوائل میں یمنی عوام کے خلاف فتنے میں شریک تھے-
المسیرہ نے خبر دی ہے کہ یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے سربراہ صالح الصماد کی طرف سے گذشتہ جمعرات کوعام معافی کے اعلان کے بعد ایک سو ساٹھ افراد کو رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا جو رواں ماہ کے اوائل میں یمنی عوام کے خلاف فتنے میں ملوث تھے-
یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے ذریعے عام معافی کے اعلان کے تحت جن لوگوں کو معاف کردیا گیا ہے انہیں یمن کے سبھی سیاسی اور بنیادی حقوق حاصل ہوں گے-
انصاراللہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عام معافی کے اعلان کا اطلاق ان لوگوں پر ہو گا جنھوں نے قتل یا دشمن کی فوج کے لئے جاسوسی کا ارتکاب نہیں کیا ہو گا-
واضح رہے کہ دسمبر کے اوائل میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے سابق ڈکٹیٹر عبداللہ صالح کے حامیوں کو فریب دے کر یمنی عوام کے خلاف فتنہ کھڑا کر دیا تھا جس کے نتیجے میں عبداللہ صالح کے حامیوں اور انصاراللہ کے درمیان شدید لڑائی ہوئی تھی اور چار دسمبر کو عبداللہ صالح کی ہلاکت کے بعد فتنے کی یہ آگ خاموش ہو گئی تھی-