صیہونی فوجیوں کی جارحیت، سیکڑوں فلسطینی زخمی
https://urdu.sahartv.ir/news/islamic_world-i308545-صیہونی_فوجیوں_کی_جارحیت_سیکڑوں_فلسطینی_زخمی
غزہ اور غرب اردن کے مختلف علاقوں میں فلسطینیوں اور صیہونی فوجیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں تقریبا چار سو فلسطینی زخمی ہو گئے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۳۰, ۲۰۱۷ ۱۳:۴۸ Asia/Tehran
  • صیہونی فوجیوں کی جارحیت، سیکڑوں فلسطینی زخمی

غزہ اور غرب اردن کے مختلف علاقوں میں فلسطینیوں اور صیہونی فوجیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں تقریبا چار سو فلسطینی زخمی ہو گئے۔

فلسطینیوں اور صیہونی فوجیوں کے درمیان یہ جھڑپیں امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کی حیثیت سے تسلیم کئے جانے کے جانے کے خلاف کئے جانے والے احتجاجات کے دائرے میں ہوئے۔
فلسطین کی وزارت صحت کے حوالے سے العالم کی رپورٹ کے مطابق احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کے خلاف غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں نے آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں کئی فلسطینیوں کا دم گھٹنے لگا۔غزہ میں فلسطین کی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ کا کہنا ہے کہ بہت سے زخمی فلسطینیوں کی حالت تشویشناک بنی ہوئی ہے۔
فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس اور جہاد اسلامی فلسطین نے جمعے کو یوم غضب کے طور پر منائے جانے کا اعلان کیا تھا۔
فلسطینیوں اور صیہونی فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کا یہ نیا سلسلہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے کے بعد شروع ہوا ہے۔ ان جھڑپوں میں اب تارہ فلسطینی شہید اور سیکڑوں دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب ایک بیمار فلسطینی بچی، صیہونی حکومت کی جانب سے اسپتال منتقل کئے جانے کی اجازت نہ دیئے جانے کی بنا پر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ غرب اردن کے شمال میں واقع نابلس کے جنوب مشرق میں واقع عورتا کے علاقے میں یہ فلسطینی بچی تیز سانس چلنے کے بعد بیہوش ہو گئی تھی جسے صیہونی حکومت نے اسپتال منتقل کئے جانے کی اجازت تک نہیں دی۔
اس سے قبل فلسطین کے انسانی حقوق کے المیزان مرکز نے اعلان کیا تھا کہ صیہونی حکومت کی جانب سے بیمار فلسطینی بچوں کو اسپتال منتقل کئے جانے کی اجازت نہ دیئے جانے کی بنا پر دو ہزار سترہ کے دوران فلسطینی بیماروں خاص طور سے بچوں کی اموات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ رہے کہ دو ہزار سے اب تک تقریبا ستّائیس ہزار فلسطینی بچے صیہونی حکومت کے حملوں اور پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔